ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 117

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۷ جلد چهارم خان عجب خان صاحب ۔ ایک بار میں پادریوں کے اعتراضوں سے سلسلہ کی مخالفت بہت ہی تنگ ہو گیا وہ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ اس وقت میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اسلام کو غالب کر ۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ وقت اب آگیا مگر مجھے افسوس ہے کہ اس نصرت کے وقت لوگ مخالفت کرتے ہیں ۔ حضرت اقدس ۔ یہ بالکل سچ ہے عیسائیوں نے اسلام کو نیست و نابود کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔ جس جس طرح سے ان کا قابو چلا انہوں نے اسلام کے شجر پر تبر چلایا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ آپ اس کا محافظ اور ناصر تھا اس لیے وہ اپنے ارادوں میں مایوس ، وہ اپنے ارادوں میں مایوس اور نامراد ہوئے۔ اور یہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ اس وقت ( جب ایسی حالت ہورہی تھی اور یہ، اسلام کی اس قدر مخالفت کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے یہ سلسلہ عظمتِ رسوم لے کو قائم کرنے کے واسطے کھڑا کیا اور اس کی تائید اور نصرت ہر ایک پہلو سے کی ) وہ بجائے اس کے کہ اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس پیاسے کی طرح جس کو ٹھنڈے اور برف آب پانی کا پیالہ مل جاوے شکر کرتے ، انہوں نے مخالفت شروع کی اور اسی طریق پر جو ہمیشہ سے سنت اللہ چلی آتی ہے ہنسی اور استہزا سے کام لیا۔ خدا تعالیٰ کے نشانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور ان سے منہ پھیر لیا۔ مجھے ان لوگوں کی حالت پر رحم اور افسوس آتا ہے کہ یہ کیوں غور نہیں کرتے اور منہاج نبوت پر اس سلسلے کی سچائی کو نہیں سمجھتے ۔ وہ دیکھتے کہ اس قدر نصر تیں اور تائیدیں جو اللہ تعالیٰ کر رہا ہے کیا یہ کسی صداقت کے دلائل مفتری اور کذا کو بھی مل سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ کوئی شخص نصرت الہی کے بغیر اس قدر دعوی کب کر سکتا ہے۔ کیا وہ تھکتا نہیں؟ اور پھر اللہ تعالیٰ مفتری کے لیے اس قدر غیرت نہیں دکھاتا کہ اسے ہلاک کرے؟ بلکہ اس کو مہلت دیتا جاتا ہے اور نہ صرف مہلت بلکہ اُس کی پیشگوئیوں کو بھی سچا کر دیتا ہے اور دوسرے لوگوں کے مقابلے میں جو اس کی مخالفت کرتے ہیں اسی کی تائید کرتا ہے اور اسی کو فتح دیتا ہے۔ انسانی حکومت کے مقابلہ میں اگر کوئی شخص افترا کرتا ہے اور لے سہو ہے اسلام ہونا چاہیے۔ (مرتب)