ملفوظات (جلد 4) — Page 109
ملفوظات حضرت مسیح موعود او ۱۰۹ جلد چهارم شناخت کرو یہی وجہ ہے کہ میرا نام اس نے خلیفہ ال خلیفہ اللہ رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ كُنتُ كَنْرًا مَّخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْرَفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ اس میں آدم میرا نام رکھا ہے۔ یہ حقیقت اس الہام کی ہے۔ اب اس پر بھی کوئی اعتراض کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کو دکھاوے گا کہ وہ کہاں تک حق پر ہے۔ حضرت حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جب حضرت اقدس جہلم میں مقدمہ کرم الدین میں جہلم تشریف جہلم تشریف لائے تھے اور ضلع جہلم اور اس کے گرد و نواح کی مخلوق آپ کی زیارت کے لیے کثیر التعداد جمع ہوئی تھی اور جہلم کی کچہری کے احاطے میں آدم زاد ہی آدم زاد نظر آتا تھا جس کی تصدیق جہلم کے اخبار نے بھی کی تھی اور جہلم کی کل مخلوق اور احکام بھی اس امر کو جانتے ہیں ۔ اس روز ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء کو احاطہ عدالت میں آپ کرسی پر تشریف فرما تھے اور ارد گرد مریدان با صفا نہایت ادب کے ساتھ حلقہ زن تھے اور ہزاروں انسان کا مجمع موجود تھا ہمارے محترم مخدوم جناب خان محمد عجب خان آف زیدہ بھی آپ کی کرسی کے پاس ایڈیٹر الحکم کے پہلو بہ پہلو بیٹھے ہوئے تھے اس وقت جناب خان محمد عجب خان صاحب آف زیدہ نے جو اس قدر ہجوم اور رجوع مخلوق کا دیکھا اور حضرت اقدس کے چہرہ پر نگاہ کی تو خوشی اور اخلاص کے ساتھ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اپنی سعادت اور خوش قسمتی کو یاد کر کے (کہ اس وقت اُس عظیم اللہ الشان انسان کے قدموں میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہے جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا اور جس کا آنا اپنا آنا فرمایا ہے ) عرض کیا کہ حضور ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں جناب کے دست مبارک کو بوسہ دوں ۔ اس پر حضرت حجۃ اللہ نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور خان صاحب موصوف نے بہت ہی لے اس جگہ ایڈیٹر الحکم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل شعر درج کیا ہے جو بہت برحل ہے۔ وَلِلَّهِ دَركَ آن خدائے کہ ازو اہل جہاں بے خبر اند بر من او جلوه نمود است گر اہلی بپذیر الحکم جلدے نمبر ۳۷ مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۳ ءصفحہ ۲،۱ (مرتب)