ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 108

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۸ جلد چهارم یہ یادرکھنا چاہیے کہ ایسا انسان جو نیستی کے کامل درجہ پر پہنچ کر ایک نئی زندگی اور حیات طیبہ حاصل کر چکا ہے اور جس کو خدا تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا ہے انتَ مِنی ۔ جو اس کے قرب اور معرفت الہی کی حقیقت سے آشنا ہونے کی دلیل ہے اور یہ انسان خدا تعالیٰ کی توحید اور اُس کی عزت و عظمت اور جلال کے ظہور کا موجب ہوا کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک عینی اور زندہ ثبوت ہوتا ہے اس رنگ سے اور اس لحاظ سے گویا خدا تعالیٰ کا ظہور اس میں ہو کر ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ظہور کا ایک آئینہ ہوتا ہے ۔ اس حالت میں جب ان کا وجود خدا نما آئینہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے یہ کہتا ہے ہو۔ وَأَنَا مِنْكَ - ایسا انسان جس کو آنا مِنْكَ کی آواز آتی ہے اُس وقت دنیا میں آتا ہے جب خدا پرستی کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا ہے۔ اس وقت بھی چونکہ دنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے اور خدا شناسی اور خدارسی کی را ہیں نظر نہیں آتی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور محض اپنے فضل و کرم سے اُس نے مجھ کو مبعوث کیا ہے تا میں ا تا میں ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ سے غافل اور بے خبر ہیں اس کی اطلاع دوں اور نہ صرف اطلاع بلکہ جو صدق اور صبر اور وفاداری کے ساتھ اس طرف آئیں انہیں خدا تعالیٰ کو دکھلا دوں ۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کیا اور فرمایا اَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ - اعتراض کرنے کو کیا ہے جب طبیعت میں فساد اور ناپا کی ہو اعتراض پیدا ہونے کی وجہ تو وہ نیکی کی طرف کب آنا پسند کرتی ہے بلکہ خلاف طبع سمجھ - کر اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ میرے اس الہام کی سچائی کا ثبوت اس پر اعتراض ہی ہیں ۔ اگر خدا تعالیٰ کا انکار اور دہریت بڑھی ہوئی نہ ہوتی تو کیوں اعتراض کیا جاتا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کا پاک اور خوشنما چہرہ دنیا کو نظر نہ آتا تھا اور وہ اب مجھ میں ہو کر نظر آئے گا اور آرہا ہے کیونکہ اُس کی قدرتوں کے نمونے اور عجائبات قدرت میرے ہاتھ پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ جن کی آنکھیں کھلی ہیں وہ دیکھتے ہیں مگر جو اندھے ہیں وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ اس امر کو محبوب رکھتا ہے کہ وہ شناخت کیا جاوے اور اُس کی شناخت کی یہی راہ ہے کہ مجھے