ملفوظات (جلد 4) — Page 103
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۳ جلد چهارم ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء ۶) حضرت حجتہ اللہ جہلا اللہ جہلم میں ) ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء کو کچہری جانے سے پیشتر اعلیٰ حضرت نے ایک الہام کی تشریح ہمارے محترم مخدوم جناب خان محمد عجب خان صاحب آف زیدہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ نے رخصت لی ہے ہمارے پاس بھی رہنا چاہیے خان صاحب نے دارالامان آنے کا وعدہ کیا اور تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کہ انتَ مِی وَ أَنَا مِنْكَ پر لوگ اعتراضات کرتے ہیں ۔ اس کا کیا جواب دیا جاوے؟ فرمایا - انت منی تو بالکل صاف ہے اس پر کسی قسم کا اعتراض اور نکتہ چینی نہیں ہو سکتی میر اظہور محض اللہ تعالی ہی کے فضل سے ہے اور اسی سے ہے۔ دوسرا حصہ اس الہام کا کسی قدر شرح طلب ہے سو یا درکھنا چاہیے کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا قرآن شریف میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے وحدہ لاشریک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں نہ افعالِ الہیہ میں ۔ سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان کامل اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک انسان ہر قسم کے شرک سے پاک نہ ہو۔ تو حید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کو کیا باعتبار ذات اور کیا باعتبار صفات اور افعال کے بے مثل مانے۔ نادان میرے اس الہام پر تو اعتراض کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے لیکن اپنی زبان سے ایک خدا کا اقرار کرنے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی صفات دوسرے کے لیے تجویز کرتے ہیں جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کو محی اور حمیت مانتے ہیں، عالم الغیب مانتے ہیں ، جی القیوم مانتے ہیں ۔ کیا یہ شرک ہے یا نہیں؟ یہ خطرناک شرک ہے جس نے عیسائی قوم کو تباہ کیا ہے اور اب مسلمانوں نے اپنی بد قسمتی سے ان کے اس قسم کے اعتقادوں کو اپنے اعتقادات میں داخل کر لیا ہے پس اس قسم کے صفات جو اللہ تعالیٰ کے ہیں کسی دوسرے انسان میں خواہ وہ نبی ہو یا ولی تجویز نہ کرے اور اسی طرح