ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 102

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۲ جلد چهارم کیسے شرمندہ ہوتے ہیں ۔ آریوں کو کیسے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ کیا کوئی عیسائی فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کیسے شرمندہ ہوتے ہیں۔ آریوں ک لیے شرمندہ ہونا پر کہ ہمارے خداوند کی تین دادیاں نانیاں بدکار تھیں ۔ الغرض انسان یا حسن کا گرویدہ ہوتا ہے یا احسان کا اور کامل طور پر یہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان کئے ہیں۔ سورۃ فاتحہ میں پہلے حسن و احسان ہی کو دکھایا ہے اور اگر ان سے انسان اس کی طرف رجوع نہیں کرتا تو پھر تیسری صورت غضب کی بھی ہے۔ اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة: ۷) کہہ کر ڈرایا ہے لیکن مبارک وہی شخص ہے جو اس کے حسن اور احسان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے۔ اس سے خدا قریب ہوجاتا ہے اور دعاؤں کو سنتا ہے۔ یا درکھو کہ عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے ہے۔ جس جس قدر انسان روح کی صفائی کرتا ہے اسی اسی قدر عقل میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور فرشتہ سامنے کھڑا ہو کر اس کی مدد کرتا ہے مگر فاسقانہ زندگی والے کے دماغ میں روشنی نہیں آ سکتی ۔ تقوی اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ صادق کے ساتھ رہو کہ تقویٰ کی تقوی اختیار کرو و حقیقت تم پر کھلے اور تمہیں توفیق ملے ۔ یہی ہمارا منشا ہے اور اسی کو ہم او دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ اے ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ء (دوران سفر جہلم بمقام لاہور ) فرمایا کہ آپ پا پیادہ سٹیشن کو روانہ ہوئے۔ راستہ میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کے استفسار پر رات کو کثرت سے بار بار یہ الہام ہوا ہے أُرِيكَ بَرَكَاتٍ مِّنْ كُلِّ طَرُفِ یعنی میں ہر ایک جانب سے تجھے اپنی برکتیں دکھاؤں گا۔ ہے ل الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۱ تا ۳ ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۲۳، ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹