ملفوظات (جلد 3) — Page 86
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱ رمتی ۱۹۰۲ء ۸۶ جلد سوم شرک تین قسم کا ہے اول یہ کہ عام طور پر بت پرستی ، درخت پرستی وغیرہ کی شرک کی اقسام جاوے یہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے۔ دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جاوے کہ فلاں کام نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا یہ بھی شرک ہے۔ تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی ھے سمجھا جاوے۔ موٹے شرک میں تو آج کل اس روشنی اور عقل کے زمانہ میں کوئی گرفتار نہیں ہوتا ، البتہ اس مادی ترقی کے زمانہ میں شرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے۔ طاعون کے پھیلنے پر یہ کوئی خیال نہیں کرتا کہ شامت اعمال سے پھیلی ہے اور اور اسباب کی طرف توجہ کرتے ہیں ۔ نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہیے۔ خدا تعالیٰ نماز عربی زبان میں پڑھنی چاہیے نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑ نا چاہیے۔ عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا۔ کچھ بھی باقی نہ رہا۔ قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا قرآن مجید میں طاعون کے متعلق پیشگوئی ہے کہ ان سے کوئی جگہ باقی رہے گی۔ ہے طاعون جیسے فرمایا ہے اِن مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا الآية (بنی اسراءيل : ۵۹) اس ۔ سے لازم آتا ہے کہ کوئی قریہ مشِ طاعون سے باقی نہ رہے۔ اس لیے قادیان کی نسبت یہ فرمایا إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ یعنی اس کو انتشار اور افراتفری سے اپنی پناہ میں لے لیا۔ سزائیں دو قسم کی ہوتی ہیں ۔ ایک بالکلیہ اہلاک کرنے والی جس کے مقابلہ میں فرمایا لو لا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ - یعنی یہ مقام اہلاک سے بچایا جاوے گا۔ دوسری قسم سزا کی بطور تعذیب ہوتی ہے۔ غرض خدا تعالیٰ