ملفوظات (جلد 3) — Page 69
ملفوظات حضرت مسیح موعود مصداق پر ہے۔ ۱۰ را پریل کو الہام ہوا ۶۹ افسوس صد افسوس اور اا ا پریل کو الہام ہوا ” ریگزائے عالم جاودانی شد۔ جلد سوم ہمارا اصل منشا اور مدعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال بعثت مسیح موعود کا اصل منشا ظاہر کرنا ہے اور آپ کی عظمت کو قائم کرنا۔ ہماراذکر تو معنی ہے۔ اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جذب اور افاضہ کی قوت ہے اور اسی افاضہ میں ہماراذکر ہے۔ لے ۱۷ را پریل ۱۹۰۲ء بعد از مغرب فرمایا۔ طاعون سے متعلق ایک اعتراض کا جواب طاعون کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اکثر غریب مرتے ہیں اور اُمراء اور ہمارے بڑے بڑے مخالف ابھی تک بچے ہوئے ہیں، لیکن سنت اللہ یہی ہے کہ آئمة الكفر اخیر میں پکڑے جایا کرتے ہیں چنانچہ حضرت موسیٰ کے وقت جس قدر عذاب پہلے نازل ہوئے اُن سب میں فرعون بچا رہا چنا نچہ قرآن شریف میں بھی آیا کہ نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: ۴۲) یعنی ابتدا عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں اور بعض کے بچانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے آخر میں تو بہ کرنی ہوتی ہے یا اُن کی اولاد میں سے کسی نے اسلام قبول کرنا ہوتا ہے۔ فرمایا ۔ کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب مسیح موعود کا مقام حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے خالی طور پر ہم کو عطا کیے گئے ۔ اور اسی لیے ہمارا نام آدم ، ابراہیم ، الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ء صفحه ۶، ۷