ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 68

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۸ جلد سوم کے فضل اور رحمت کا نشان ہے دلم سے بلرزد بظاہر ایک غیر محل سا محاورہ ہو سکتا ہے مگر یہ اسی کے مشابہ ہے جو بخاری میں ہے کہ مومن کی جان نکالنے میں مجھے تردد ہوتا ہے۔ توریت میں جو پچھتانا وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں دراصل وہ اسی قسم کے محاورہ ہیں جو اس سلسلہ کی ناواقفی کی وجہ سے لوگوں نے نہیں سمجھے۔ اس الہام میں خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی محبت اور رحمت کا اظہار ہے اور حرم کے لفظ میں گو یا حفاظت کی طرف اشارہ ہے۔ حرم کے لفظ پر اس وقت خاکسارایڈیٹر نے عرض کیا تھا کہ حضور کا الہام مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنَّا اور بھی اس لفظ حرم کی تصدیق کرتا ہے اور اب ہم کہتے ہیں کہ اِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدار کا الہام بھی اسی کا مؤید ہے ۔ یاد آورم اسی طرح ہے جیسے اُذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمُ (البقرة: ۱۵۳) اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا ہوتی ہے کہ لا الہ اللہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج ہے ایسا وہم کرنا بھی کفر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ واپس کروں گا۔ یہ ایک طریق ہے اللہ تعالیٰ جس سے فضل کرنا چاہتا ہے۔ حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے باپ کی شکل پر خدا تعالیٰ کو دیکھنا کہ رَأَيْتُ رَبِّي عَلى صُورَةِ آبی یعنی میں نے اپنے رب کو اپنے باپ کی شکل پر دیکھا۔ میں نے بھی اپنے والد صاحب کی شکل پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا ان کی شکل بڑی بارعب تھی انہوں نے ریاست کا زمانہ دیکھا ہوا تھا اس لیے بڑے بلند ہمت اور عالی حوصلہ تھے۔ غرض میں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھے ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ خدا تعالیٰ ہے۔ اس میں سر یہ ہوتا ہے کہ باپ چونکہ شفقت اور رحمت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور قرب اور تعلق شدید رکھتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کا باپ کی شکل میں نظر آنا اس کی عنایت تعلق اور شدت محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے قرآن شریف میں بھی آیا ہے کَذِكْرِ كُمُ ابَاءَكُم (البقرة : ۲۰۱) اور میرے الہامات میں یہ بھی ہے اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِی یہ قرآن شریف کی اسی آیت کے مفہوم اور