ملفوظات (جلد 3) — Page 54
ملفوظات حضرت مسیح موعود ولد جلد سوم قائم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے وفات مسیح کے مسئلہ پر برخلاف اور نبیوں کی وفات کے بہت ہی بڑا زور دیا ہے۔ اور تین سے بھی زیادہ آیتوں میں اس مضمون کو بیان کیا ہے چنانچہ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی وغیرہ آیتوں میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بیوقوف کہتے ہیں کہ وفات نہیں ہوئی بلکہ خدا نے آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ غلطیاں ہیں جو کتاب اللہ کے خلاف دین کی ہتک کے لیے لوگوں نے از خود پیدا کر لی ہیں ۔ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی صفات عاجز انسان کو دی جاویں۔ پھر کس شیخی پر یہ اسلام کا دعوی کرتے ہیں۔ کیا اسلام اسی کا نام ہے کہ یہ اقرار کیا جاوے کہ کچھ مخلوق خدا کی ہے اور کچھ سیچ کی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ایسے عقائد بنا کر ان لوگوں نے اسلام کی ہتک کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور خدا تعالیٰ کی مخالفت کی ہے۔ افسوس ! کیا اسلام یہی برکت لے کر دنیا میں آیا تھا ؟ اسی کا نام اتمام نعمت تھا ؟ آیا تھا ؟ اس کانام اتمام نعمت اسلام وہ مصفّا اور خالص توحید لے کر آیا تھا ، جس کا خالص توحید اسلام نے سکھائی نمونہ او نام ونشان بھی دوسرے ملتوں اور مذہبوں میں پایا نہیں جاتا۔ یہاں تک کہ میرا ایمان ہے کہ اگر چہ پہلی کتابوں میں بھی خدا کی توحید بیان کی گئی ہے اور گل انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اور منشا بھی توحید ہی کی اشاعت تھی۔ لیکن جس اسلوب اور طرز پر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم توحید لے کر آئے اور جس نہج پر قرآن نے توحید کے مراتب کو کھول کھول کر بیان کیا ہے کسی اور کتاب میں اس کا ہرگز پتہ نہیں ہے۔ پھر جب ایسے صاف چشمہ کو انہوں نے مکدر کرنا چاہا ہے تو بتاؤ اسلام کی تو ہین میں کیا باقی رہا۔ اس پر ان کی بد قسمتی یہ ہے کہ جب اُن کو وہ ہا۔ اس پر ان کی بد سمتی یہ ہے کہ جب اُن اصل اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے پیش کیا جاتا ہے اور قرآن شریف کے ساتھ ثابت کر کے دکھایا جاتا ہے کہ تم غلطی پر ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بری کر سکتے ہیں؟ نہیں ! بلکہ قرآن شریف کے موافق اور خدا تعالیٰ کی سنت قدیم کے مطابق اس قول سے بھی ایک حجت اُن پر پوری ہوتی ہے۔ جب کبھی کوئی خدا کا مامور اور مرسل آیا ہے تو مخالفوں نے اس کی تعلیم کوشن کر یہی کہا