ملفوظات (جلد 3) — Page 53
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳ جلد سوم اور پوچھا جاوے کہ خدا کا کونسا ہے اور مسیح کا کونسا ہے۔ تو اُس نے جواب دیا کہ مل جل ہی گئے ہیں ۔ اے پھر وہ دین جو خدا تعالیٰ کی توحید کا سرچشمہ تھا اور جس کی حمایت اور آبیاری کے لیے زمین صحابہ کے پاک خون سے سرخ ہو گئی تھی اسی کے ماننے کا دعوی کرنے والوں نے ایک عورت کے بچہ کو عیسائیوں کا تتبع کر کے خدا بنادیا اور خدا کی صفات کو اس میں قائم کر دیا۔ جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی تو خدا تعالیٰ نے اپنی غیرت اور جلال کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا اور اُس نے اس نبی ناصری کے نمونہ پر ( جس کو نادان مسلمانوں نے خدائی صفات سے متصف کرنا چاہا ہے ) مجھے بھیجا ہے ، مگر ان لوگوں نے جو ضد اور تعصب سے خالی نہ تھے بلکہ اُن کے دل ان تاریک بخارات سے سیاہ ہو چکے تھے میری مخالفت کی اور اس مخالفت کو شرارت اور ایذارسانی کی حد تک پہنچایا۔ اس پر خدا تعالیٰ نے جو اپنے بندوں کے لیے غیرت رکھتا ہے طاعون کو بھیجا۔ اور یہ اس وقت ہوا ہے جب ہر قسم کی حجت پوری ہو چکی۔ عقلی دلائل اُن کے سامنے پیش کیے گئے ۔ نصوص قرآنیہ حدیثیہ سے اُن پر حجت پوری کی اور آخر خدا تعالیٰ کے تائیدی نشانات بھی کثرت کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ ہر قسم کے نشان اُن کو ملے مگر انہوں نے اُن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اُن پر ٹھٹھا کیا۔ اس لیے آخری علاج طاعون رکھا گیا۔ یہ وہ نشان ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آج سے پچیس برس پہلے براہین میں بھی کیا ہے اور خدا تعالیٰ نے پہلی کتابوں میں بھی مسیح موعود کے زمانہ کا یہ ایک نشان رکھا ہے۔ اس سے وہی بچیں گے جو تو حید اختیار کریں گے اور عاجز انسان کو خدا نہ بنائیں گے اور خدائی صفات سے اس کو متصف نہ ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی قدر کریں گے۔ سب سے پہلی بات جو یا د رکھنی چاہیے وہ وفات مسیح کا ہی مسئلہ مسئلہ وفات مسیح کی اہمیت ہے۔ یہ لوگ بعض وقت دھوکا دیتے ہیں کہ فات مسیح کی بحث کی ضرورت ہی کچھ نہیں حالانکہ اصل جڑ یہی ہے۔ اسی مسئلہ سے عیسائیوں کی ساری کارروائی باطل ہوتی ہے اور حضرت مسیح کی خدائی کی ٹانگ ٹوٹتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دنیا میں الحکم جلد ۶ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۲ صفحه ۸