ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 461

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۱ جلد سوم اب اس وقت اللہ تعالیٰ نے بہت سی مشکلات کو دور کر دیا ہے۔ پھر اس کے بعد ذکر فرمایا کہ ایک الہام رات کو الہام ہوا ہے انهَ كَرِيمٌ تَمَشْى أَمَامَكَ وَعَادَى لَكَ مَنْ عَادَى یعنی وہ کریم ہے وہ تیرے آگے آگے چلتا ہے۔ جس نے تیری عداوت کی (گویا) اس کی عداوت کی ۔ فرمایا۔ قرآنی ترتیب کا ایک ستر کل جو الہام ہوا تھايَاتِي عَلَيْكَ رَمَنْ كَمَقَالِ زَمَنِ مُوسَى یہ اسی الہام کے آگے معلوم ہوتا ہے جہاں ایک الہام کا قافیہ جب دوسرے الہام سے ملتا ہے خواہ وہ الہامات ایک دوسرے سے دس دن کے فاصلہ سے ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں کا تعلق آپس میں ضرور ہے یہاں بھی موسیٰ اور عادلی کا قافیہ ملتا ہے اور پھر توریت میں اس قسم کا مضمون ہے کہ خدا نے موسیٰ کو کہا کہ تو چل میں تیرے آگے چلتا ہوں ۔ بعض لوگ جہالت سے اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف رسول کی قومی زبان میں الہام میں ہے کہ ہر ایک قوم کی زبان میں الہام ہونا چاہیے جیسے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ ( ابراهیم : ۵ ) مگر تم کو عربی میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ تو ایک تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا سے پوچھو کہ کیوں ہوتے ہیں اور اس کا اصل سر یہ ہے کہ صرف تعلق جتلانے کی غرض سے عربی میں الہامات ہوتے ہیں کیونکہ ہم تابع ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کہ عربی تھے۔ ہمارا کاروبار سب ظلتی ہے اور خدا کے لئے ہے۔ پھر اگر اسی زبان میں الہام نہ ہو تو تعلق نہیں رہتا۔ اس لئے خدا تعالیٰ عظمت دینے کے واسطے عربی زبان میں الہام کرتا ہے اور اپنے دین کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے جس بات کو ہم ذوق کہتے ہیں اسی پر وہ لوگ اعتراض کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ اصل متبوع کی زبان کو نہیں چھوڑتا۔ اور جس حال میں یہ سب کچھ اسی ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کی خاطر ہے اور اسی کی تائید ہے تو پھر اس سے قطع تعلق کیوں کر ہو۔ اور بعض وقت انگریزی، اردو، فارسی میں بھی الہام ہوئے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ جتلا دیوے کہ وہ ہر ایک زبان سے واقف ہے۔