ملفوظات (جلد 3) — Page 444
ملفوظات حضرت مسیح موعود وَاسْتَكْبَرُوا کے متعلق فرمایا کہ جلد سوم اس میں علو اور تکبر سے یہ مراد نہیں ہے کہ مال و وجاہت کا تکبر ہو بلکہ ہر ایک شخص جو کہ عاجزی اور تذلل سے خدا کے سامنے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتا اور اس کے احکام کو نہیں مانتا وہ اس میں داخل ہے خواہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو۔ ( بوقت ظهر ) جماعت کو نیک اور پاک تبدیلی پیدا کرنے کی نصیحت ظہر کے وقت حضرت علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو نواب صاحب سے طاعون پر کچھ ذکر ہوا جس پر حضور نے ذیل کی تقریر کی۔ ہماری جماعت کو واجب ہے کہ اب تقوی سے کام لیوے اور اولیاء بننے کی کوشش کرے اس وقت زمینی اسباب کچھ کام نہ آوے گا اور نہ منصوبہ اور نہ حجت بازی کام آوے گی ۔ دنیا سے کیا دل لگانا ہے اور اس پر کیا بھروسہ کرنا ہے یہ ہی امر غنیمت ہے کہ خدا سے صلح کی جاوے اور اس کا یہی وقت ہے۔ ان کو یہی فائدہ اٹھانا چاہیے کہ خدا سے اسی کے ذریعہ سے صلح کر لیں ۔ بہت مرضیں ایسی ہوتی ہیں کہ دلالہ کا کام کرتی ہیں اور انسان کو خدا سے ملا دیتی ہیں۔ خاص ہماری جماعت کو اس وقت وہ تبدیلی یک مرتبہ ہی کرنی چاہیے جو کہ اس نے دس برس میں کرنی تھی اور کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں ان کو پناہ مل سکتی ہے اگر وہ خدا پر بھروسہ کر کے دعائیں کریں تو ان کو بشارتیں بھی ہو جاویں گی۔ صحابہ پر جیسے سکینت اتری تھی ویسے ان پر اترے گی صحابہ کو انجام تو معلوم نہ ہوتا تھا کہ کیا ہو گا مگر دل میں تیستی ہو جاتی تھی کہ خدا ہمیں ضائع نہ کرے گا۔ اور سکینت اسی تسلّی کا نام ہے۔ جیسے میں اگر طاعون زدہ ہو جاؤں اور گلے تک میری جان م زدہ ہو جاؤں اور تھے تک میری جان آجاوے تو مجھے ہرگز یہ وہم تک نہیں ہو گا کہ میں ضائع ہو جاؤں گا اس کی کیا وجہ ہے؟ صرف وہی تعلق لے اس سے قبل اس پہلے الہام کے الفاظ اِسْتَكْبَرُوا کی اظ اسْتَكْبَرُوا کی بجائے مِن اسْتِكْبَارٍ آچکے ہیں (مرتب)