ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 439 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 439

ملفوظات حضرت مسیح موعود لدلم جلد سوم اور پھر مفتی صاحب کے مکان کی نسبت دریافت کر کے فرمایا کہ صفائی رکھنے کی تاکید اس کے مالکوں کو کہو کہ روشندان نکال دیں اور آج کل گھروں میں خوب صفائی رکھنی چاہیے کپڑوں کو بھی ستھرا رکھنا چاہیے۔ آج کل دن بہت سخت ہیں اور ہوا زہریلی ہے اور صفائی کا رکھنا تو سنت ہے۔ قرآن شریف میں بھی لکھا ہے وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدثر : ۶۰۵ ) ۔ یہ کلام حضرت کا ہم نے بالواسطہ سن کر لکھا ہے ۔ (ایڈیٹر ) ( بوقت عشاء ) تین اشخاص نے آپ کے ہاتھ پر بیعت بیعت کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے کی بعد بیت آپ نے مباھین کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آدمی کو بیعت کر کے صرف یہی نہ ماننا چاہیے کہ یہ سلسلہ حق ہے اور اتنا ماننے سے اسے برکت ہوتی ہے آج کل بلا کا زمانہ ہے طاعون ہر طرف پھیل رہی ہے صرف ماننے سے اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہوتا جب تک اچھے عمل نہ ہوں ۔ کوشش کرو کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہو تو نیک بنو، متقی بنو، ہر ایک بدی سے بچو۔ یہ وقت دعاؤں سے گزارو۔ رات اور دن تضرع میں لگے رہو جب ابتلا کا وقت ہوتا ہے تو خدا کا غضب بھی بھڑ کا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں دعا، تضرع ، صدقہ خیرات کرو۔ زبانوں کو نرم رکھو۔ استغفار کو اپنا معمول بناؤ۔ نمازوں میں دعائیں کرو مثل مشہور ہے منتیں کرتا ہوا کوئی نہیں کرتا۔ نراماننا انسان کے کام نہیں آتا اگر انسان مان کر پھر اسے پس پشت ڈال دے تو اسے فائدہ نہیں ہوتا پھر اس کے بعد یہ شکایت کرنی کہ بیعت سے فائدہ نہیں ہوا بے سود ہے۔ خدا تعالیٰ صرف قول سے راضی نہیں ہوتا۔ قرآن شریف میں اللہتعالی نے کے ساتھ صلح رکھا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا عمل صالح کی تعریف سے عمل صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ بھر فسد نہ ہو ۔ یاد رکھو کہ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں وہ کیا ہیں ۔ ریا کاری ( کہ جب انسان دکھاوے