ملفوظات (جلد 3) — Page 433
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳۳ جلد سوم کے نیچے ایک فارسی چلی جاتی ہے میں نے اس میں پاؤں رکھا تو دھس گیا اور خوب یاد ہے کہ پھر میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔ پھر ایک جست کر کے میں اوپر آگیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول اور اس قدر بڑا جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر ۔ اور میں اُس پر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر تیر رہا ہوں سید محمد احسن صاحب کنارہ پر تھے۔ میں نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھ لیجیے کہ لیجیے کہ عیسی تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا؟ تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ ۔ پر ہے۔ حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے۔ نہ ہاتھ نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے ادھر ادھر تیر رہے ہیں ایک بجنے میں بیس منٹ باقی تھے کہ میں نے یہ خواب دیکھا۔ ( بوقت مغرب ) ایک شخص امرتسری نے حضرت اقدس بات وہ کرنی چاہیے جس سے لڑائی کا خاتمہ ہو کو بہت بخش اور گندی گالیاں دی تھیں ۔ ایک با غیرت آپ کے مخلص خادم نے اس کا جواب درشتی سے دینا چاہا تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ جوش کے مقابلہ پر جوش ہو تو فساد کا باعث ہوتا ہے اور بات وہ کرنی چاہیے جس سے لڑائی کا خاتمہ ہو۔ اگر ہم بدی کا جواب اس حد تک کی بدی سے دیویں تو پھر ہمارے کاروبار میں برکت نہیں رہتی ۔ جوش اور اشتعال کے وقت کے لکھے ہوئے مضامین میں فصاحت و بلاغت جاتی رہتی ہے۔ فصاحت اور بلاغت نرمی کا بیٹا ( فرزند ) ہے جس قدر نرمی ہو گی اسی قدر عبارت فصیح ہو گی ۔ اہل حق کو ہوگی ۔ درہم برہم نہ ہونا چاہیے۔ گندی بات قابل جواب ہی نہیں ہوا کرتی ۔ اصحاب کبار میں سے ایک نے ایک شے طلب کی ۔ احباب سے حضور کی شفقت حضرت اقدس اس وقت خود اٹھ کر اندر تشریف لے گئے اور وہ شے لا کر دی۔ البدر جلد نمبرے مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۵