ملفوظات (جلد 3) — Page 432
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳۲ جلد سوم تصرف کرنا گناہ ہے۔ انسان ایک آدمی کو بد خیال کرتا ہے اور پھر آپ اس سے بدتر ہو جاتا ہے۔ کتابوں میں میں نے ایک قصہ پڑھا ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ تھے انہوں نے ایک دفعہ عہد کیا کہ میں اپنے آپ کو کسی سے اچھا نہ سمجھوں گا ایک دفعہ ایک دریا کے کنارے پہنچے کہ ایک شخص ایک جوان عورت کے ساتھ کنارے پر بیٹھا روٹیاں کھا رہا ہے اور ایک بوتل پاس ہے اس میں سے گلاس بھر بھر کر پی رہا ہے ان کو دور سے دیکھ کر اس نے کہا کہ میں نے عہد تو کیا ہے کہ اپنے کو کسی سے اچھا نہ خیال کروں گا۔ مگر ان دونوں سے تو میں اچھا ہی ہوں۔ اتنے میں زور سے ہوا چلی اور دریا میں طوفان آیا۔ ایک کشتی آرہی تھی وہ غرق ہو گئی وہ مرد جو کہ عورت کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا اٹھا اور غوطہ لگا کر چھ آدمیوں کو نکال لایا اور ان کی جان بچ گئی پھر اس نے اس بزرگ کو مخاطب ہو کر کہا کہ تم اپنے آپ کو مجھ سے اچھا خیال کرتے ہو۔ میں نے تو چھ کی جان بچائی ہے اب ایک باقی ہے اسے تم نکالو۔ یہ سن کر وہ بہت حیران ہوا اور پھر اس سے پوچھا کہ تم نے یہ میرا ضمیر کیسے پڑھ لیا اور یہ معاملہ کیا ہے؟ تب اس جوان نے بتلایا کہ اس بوتل میں اسی دریا کا پانی ہے شراب نہیں ہے اور یہ عورت میری ماں ہے اور میں ایک ہی اس کی اولاد ہوں ۔ قومی اس کے مضبوط ہیں اس لئے جو ان نظر آتی ہے۔ خدا نے مجھے مامور کیا تھا کہ میں اسی طرح کروں تا کہ تجھے سبق حاصل ہو۔ پھر فرمایا کہ خضر کا قصہ بھی اسی بنا پر معلوم ہوتا ہے سوء ظن جلدی سے کرنا اچھا نہیں ہوتا۔ تصرف فی العباد ایک نازک امر لے ہے اس نے بہت سی قوموں کو تباہ کر دیا کہ انہوں نے انبیاؤں اور ان کے اہلِ بیت پر بدظنیاں کیں ۔ اے ۱۸ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز دوشنبه ( بوقت عصر ) اس وقت نماز سے قبل آپ نے ایک رؤیا سنائی ۔ ایک رویا میں دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر وضو کرنے لگا تومعلوم ہوا کہ وہ زمین پولی ہے اور اس ل البدر جلد نمبرے مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۴