ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 407

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۰۷ جلد سوم یہ جماعت کثیر ہو جاوے گی تو یہ سب خود ہی چپ کر جاویں گے۔ اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ دکھ نہ دیتے اور دکھ دینے والے پیدا نہ ہوتے مگر خدا ان کے ذریعہ سے صبر کی تعلیم دینا چاہتا ہے۔ تھوڑی مدت صبر کے بعد دیکھو گے کہ کچھ بھی نہیں ہے جو شخص دکھ دیتا ہے یا تو تو بہ کر لیتا ہے یا فنا ہو جاتا ہے۔ کئی خط اس طرح کے آتے ہیں کہ ہم گالیاں دیتے تھے اور ثواب جانتے تھے لیکن اب تو بہ کرتے ہیں اور بیعت کرتے ہیں ۔ ۔ صبر صبر بھی ایک عبادت دت ہے ہے خدا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر والوں کو وہ بدلے ملیں گے جن کا کوئی حساب نہیں ہے۔ یعنی ان پر بے حساب انعام ہوں گے۔ یہ اجر صرف صابروں کے واسطے ہے۔ دوسری عبادت کے واسطے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں ہے۔ جب ایک شخص ایک کی حمایت میں زندگی بسر کرتا ہے تو جب اسے دکھ پر دکھ پہنچتا ہے تو آخر حمایت کرنے والے کو غیرت آتی ہے اور وہ دکھ دینے والے کو تباہ کر دیتا ہے اسی طرح ہماری جماعت خدا کی حمایت میں ہے اور دکھ اٹھانے سے ایمان قوی ہوجاتا ہے۔ صبر جیسی کوئی شے نہیں ہے۔ اس زمانے کی نسبت فرمایا کہ یہ زمانہ مامور من اللہ کے آنے کا ہے عجیب بات ہے کہ ہندو بھی کہتے ہیں کہ یہ زمانہ ایک بڑے اوتار کا ہے۔ نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ نزول مسیح میں کوئی شخص چودھویں صدی سے آگے نہیں بڑھتا۔ (یعنی جس قدر مکاشفات اور اخبار ہیں وہ تمام چودھویں صدی تک کی خبر دیتی ہیں ) ترقی قمر بھی چودہ تک ہی معلوم ہوتی ہے۔ جیسے قرآن شریف میں ہے وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (ليس : ۴۰) ایک حافظ نے درخواست کی کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ قرآن کی قرآن کریم کی ایک خاصیت میری منزل پھر جوئے گرنا کامیاب ہ رہتا ہوں۔ دعا فرمائیے ۔ گے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہی قرآن خود به خاصیت رکھتا ہے کہ اس نقص کو رفع کر دے محبت سے پڑھتے رہو ہم بھی دعا کریں البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۹