ملفوظات (جلد 3) — Page 352
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۲ جلد سوم اختیار کیا۔ معلوم ہوتا ہے یہ لو یہ لوگ گورنمنٹ کے بڑے مزاج دان ہوتے ہیں گورنمنٹ کے لئے رعایا مثل بچوں کے ہے ایک ماں کی طرح حد انسانیت تک خبر گیری ضروری ہے اگر یہ بات ثابت ہوگئی کہ ٹھیکہ سے کوئی مفید تجربہ حاصل نہیں ہوا تو پھر طاعون کا کوئی علاج نہیں آخر نظر آسمان کی طرف ہونی ہوا کا چاہیے خدا نے قوموں کو سزا دینے کے لئے اسے رکھا ہے۔ توریت میں بھی اس کا ذکر ہے قرآن میں بھی ہے بلکہ قرآن میں تو چوہوں کا بھی ذکر ہے خدا کی عجیب قدرتوں کے دن ہیں جو قسمت والے ہوں گے وہ ایمان خدا پر لاویں گے ۔ پھر عبد اللہ عرب صاحب اپنی تصنیف رد شیعہ میں سناتے رہے ایک مقام پر صحابہ کا زہر حضرت اقدس نے فرمایا کہ صحابہ کرام کو جو برابر بھی دنیا کی خواہش نہ تھی ان کا مدعا یہ تھا کہ خون بہا کر بھی رسول اللہ کے پیرو بن جاویں۔ پھر ایک مقام پر فرمایا کہ سر الشہادتین (کتاب) میں میں نے ایک دفعہ پڑھا کہ جب مسلم (امام حسین ) دروازہ کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے یہ آیت پڑھی رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ انْتَ خَيْرُ الفتحِينَ (الاعراف: ۹۰) اور اسی وقت ان کا سر کاٹا گیا یہ بات مجھ کو بڑی بے محل معلوم ہوئی ۔ پھر عبد اللہ عرب صاحب اپنے تقیہ کے حالات سناتے رہے جو کہ وہ اول اول خاص قادیان میں کرتے رہے اور پھر انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اس گند سے ان کو نجات دی ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا کا بڑا فضل ہے جب تک آنکھ نہ کھلے انسان کیا کر سکتا ہے۔ لے ۶ نومبر ۱۹۰۲ء بروز پنجشنبه ( بوقت ظهر ) حضرت اقدس نے آکر فرمایا کہ چونکہ کام کی کثرت ہے اور وقت تنگ ہے کل انشاء اللہ بٹالہ بھی جانا ہے اس لیے آج نمازیں جمع کر لی جاویں۔ ل البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ رنومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۲، ۲۳