ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 342

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۲ جلد سوم میں پھر خواہ ان کے آگے کچھ ہی کہو وہ لوگ ایک نہیں سنتے جیسے مولوی صاحب نے کل اپنا ذ کر سنایا تھا۔ اور پھر طریق بحث پر ایک جگہ فرمایا کہ بلاغت کا کمال یہ بھی ہے کہ ایک بات دوسرے کے دل تک پہنچائی جاوے ورنہ اگر کوئی کلام اس قابل ہو کہ آب زر سے ب زر سے لکھی جاوے مگر متکلم اسے سمجھ نہیں سکتا تو پھر وہ فصیح نہ کہلاوے گی اس لئے کلام کرنے والے کو یہ تمام پہلومد نظر رکھنے چاہئیں۔ مکذبوں کے ذریعہ ہی حقائق و معارف کھلتے ہیں ہوتی ہے اور انجام کی خوشی متقیوں ہیں کافروں کے لئے درمیانی خوشی کے لئے ہوتی ہے خدا تعالیٰ اگر چاہے تو ایک دم میں سب کا خاتمہ کر سکتا ہے مگر وہ رونق چاہتا ہے جب تک مکذب نہ ہوں تو پھر مصدق کی حقیقت کیا معلوم ہو سکتی ہے مکتبوں کے ذریعہ سے ہی حقائق معارف کھلتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اور نصرت کا پتہ ملتا ہے اگر ایک شخص کے دل میں ماں ہے کی محبت ہے تو اس کا کسی کو علم نہ ہو گا مگر جب کوئی اسے ماں کی گالی دیوے تو جھٹ اسے غصہ آوے گا اور معلوم ہو جاوے گا کہ ماں کی محبت اس کے دل میں ہے۔ ان ہمارے مخالفوں کو غلطیاں نکالنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا جب تک وہ اپنا ایک علمی معجزہ منصب عربی دانی کا ثابت نہ کریں تب تک ان کو غلطی نکالنے کا حق نہیں ہے۔ اعتراض کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اول زبان پر پورا احاطہ ہو اگر ان لوگوں کو عربی کا علم ہے تو ہم جو دس سال سے رسالہ لکھ لکھ کر مقابلہ پر بلا رہے ہیں انہوں نے آج تک دس سطریں ہی دکھائی ہوتیں۔ ورنہ جہالت سے تکذیب کرنے سے کیا بنتا ہے یہ خدا کی قدرت ہے کہ یہ لوگ بالمقابل لکھ نہیں سکتے ورنہ املا کرنا کیا مشکل امر ہے مگر ہمارے مقابلہ میں خدا نے ان کی زبانوں کو بند کر دیا ہے۔ فرمایا کہ دل میں بات بٹھانے کے واسطے بھی ایک ڈھب ہوتا ہے کیونکہ اب تلوار کی لڑائی تو ہے نہیں ۔ زبانوں کی ہے اس لئے زبان کی تلوار جب مارے تو اوچھی نہ مارے۔ ایسی ضرب مارے کہ دو ٹکرے ہو جاویں میں نے بار ہا ارادہ کیا ہے کہ یہ لوگ میرے زانو بہ زانو بیٹھ کر عربی لکھیں مگر دل فتوئی