ملفوظات (جلد 3) — Page 341
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۱ جلد سوم اور معارف بیان کرنے گو یا دیدہ دانستہ مخالف کو ڈگری دینی ہوتی ہے۔ فرمایا۔ ولد الزنا میں حیا کا مادہ نہیں ہوتا اسی لئے خدا تعالیٰ نے نکاح کی بہت تاکید کی ہے۔ اے ( صبح کی سیر ) اس امر کا تذکرہ تھا کہ بعض نادان ملاں جب ہر طرح مقابلہ سے عاجز عربی نویسی میں مقابلہ آجاتے ہیں اور ان پر اتمام حجت کے لئے کہا جاتا ہے کہ فصیح بلیغ عربی نویسی میں مقابلہ کر لو تو یہ کہہ کر پیچھا چھڑاتے ہیں کہ ان کتابوں میں غلطیاں ہیں ۔ فرمایا۔ ۔ غلطیاں نکالنے کا جو دعویٰ کرتے ہیں اس میں تو یہ امر بجائے خود تنقیح طلب ہے کہ جو غلطی انہوں نے نکالی ہے خود ان کی اپنی ہی غلطی تو نہیں ۔ مولوی محمد حسین صاحب نے عَجِبْتُ لِأَمْرِی پر جب اعتراض کیا کہ لام صلہ نہیں بلکہ مین آتا ہے تو اسے کیسا شرمندہ ہونا پڑا۔ بالمقابل لکھ کر تو دکھا ئیں ۔ دعوت تو لکھنے کی ہے نہ غلطیاں نکالنے کی اور پھر ایسی حالت میں یہ بہانہ کب چل سکتا ہے جب اپنی نکالی ہوئی غلطیوں میں خود ان کی ہی غلطیاں ہوں ۔ ۳ نومبر ۱۹۰۲ء ۶ بروز دوشنبه ( بوقت سیر ) حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور سیر کو چلے اور اس امر مباحثات کا طریق پر آپ نے تذکرہ فرمایا کہ مباحثات میں ہمیشہ یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ فریق مخالف اپنی روباہ بازی سے سامعین کو دھوکا نہ دے جاوے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سامعین کے باطل عقائد کے موافق یہ لوگ ہماری طرف سے ایسی باتیں ان کو سناتے ہیں کہ جن سے وہ لوگ معاً بھڑک جاویں اور برانگیختہ ہو جاویں ایسی صورت ل البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ رنومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲۰،۱۹ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخه ۱۷ رنومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳