ملفوظات (جلد 3) — Page 309
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۹ جلد سوم نہیں گیا اور وہ کوئی اور شخص تھا تو دو صورتوں سے خالی نہیں یا دوست ہوگا یا دشمن ۔ پہلی صورت میں مسیح نے اپنے ہاتھ سے ایک دوست کو ملعون بنایا جس لعنت سے خود بچنا چاہتا تھا اس کا نشانہ دوست کو بنایا۔ یہ کون شریف پسند کر سکتا ہے۔ پس وہ حواری تو ہو نہیں سکتا۔ اگر دشمن تھا تو چاہیے تھا کہ وہ دہائی دیتا اور شور مچاتا کہ میں تو فلاں شخص ہوں مجھے کیوں صلیب دیتے ہو۔ میری بیوی اور رشتہ داروں کو بلاؤ میرے فلاں اسرار ان کے ساتھ ہیں تم دریافت کرلو۔ غرض اس تواتر کا انکار فضول ہے اور قرآن شریف نے ہرگز اس کا انکار نہیں کیا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن شریف نے تکمیل صلیب کی نفی کی ہے جو لعنت کا موجب ہوتی تھی ۔ نفس صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی نہیں کی اس لئے مَا قَتَلُوہ کہا اگر یہ مطلب نہ تھا تو پھر مَا قَتَلُوہ کہنا فضول ہو جائے گا۔ یہ ان کے تواترات میں کہاں تھا؟ یہ اس لئے فرمایا کہ صلیب کے ذریعہ قتل نہیں کیا پھر مَا صَلَبُوهُ سے اور صراحت کی اور لكِن شُبَّهَ لَهُمُ سے اور واضح کر دیا کہ وہ زندہ ہی تھا یہودیوں نے مردہ سمجھ لیا۔ تماشا کیا اگر آسمان پر اٹھایا جاتا تو خدا تعالیٰ کی قدرت پر ہنسی ہوتی کہ اصل مقصود تو بچانا تھا یہ کیا تھا کہ دوسرے آسمان سے پہلے بچا ہی نہ سکا۔ چاہیے تھا کہ ایک یہودی کو ساتھ لے جاتے اور آسمان سے گرا دیتے تا کہ ان کو معلوم ہو جاتا۔ فرمایا۔ رَفَعَتُهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم : ۵۸) میں ان کو ماننا پڑا ہے کہ ادریس مر گیا۔ صدیق حسن خان : نے لکھا ہے کہ اگر حضرت ادریس کو ایسا مانیں تو پھر ان کے بھی واپس آنے کا عقیدہ رکھنا پڑتا ہے جو صحیح نہیں۔ تعجب ہے کہ حضرت عیسی کے لئے تو فی موجود ہے۔ پھر بھی اس کی موت سے انکار کرتے ہیں ۔ بخاری بڑا ہی مبارک آدمی تھا اس نے صاف لکھ دیا مُتَوَفِّيكَ مُمِيتُك - اسی کے ضمن میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة: ۱۱۸) کی تفسیر جو آپ نے بارہا کی اور ہم نے شائع کی بیان فرمائی ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۶