ملفوظات (جلد 3) — Page 302
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۲ جلد سوم کو اپنے عقائد کے متعلق اطلاع دینی ہو تو جھٹ وہ روانہ کر دی ۔ میر ناصر نواب صاحب کی تائید پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب کا ایسی عمدہ انگریزی لکھنا ایک خوارقِ عادت امر ہے چنانچہ انگریزوں نے بھی خیال کیا ہے کہ ہم نے کوئی یورپین رکھا ہوا ہے جو کہ انگریزی رسالہ لکھتا ہے۔ مولوی محمد علی صاحب نے بیان کیا کہ یہ خدا کا فضل ہی ہے ورنہ اس سلسلہ سے پیشتر میرا ایک حرف تک کبھی شائع نہیں ۔ (اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ) مفتی محمد صادق صاحب حسب الارشاد حضرت اقدس ایک عیسائی کتاب سے گناہ کی تعریف گناہ کی حقیقت ۔ یقت سناتے رہے اس کتاب میں ایک جگہ گناہ ایک جگہ گناہ کی تعریف یہ لکھی تھی کہ جو امر کانشنس یا شریعت کے خلاف ہو وہ گناہ ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ یہ قرآن شریف میں بھی ہے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحُبِ السَّعِيرِ ( الملك : 11) یعنی اگر ہم شریعت پر چلتے یا کانشنس پر ہی عمل کرتے تو اصحاب الشعیر سے نہ ہوتے۔ موسیٰ پر الزام مگا مارنے کا جو عیسائی لگاتے ہیں اس کی نسبت فرمایا کہ وہ گناہ نہیں تھا ان کا ایک اسرائیلی بھائی نیچے دبا ہوا تھا طبعی جوش سے انہوں نے ایک مکا مارا وہ مر گیا جیسے اپنی جان بچانے کے لئے اگر کوئی خون بھی کر دیوے تو وہ جرم نہیں ہوتا۔ موسیٰ کا قول قرآن شریف میں ہے مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ (القصص : ۱۵) یعنی قبطی نے اس اسرائیلی کو عمل شیطان (فاسدا رادہ) سے دبایا ہوا تھا۔ پھر اس کتاب میں خود غرضی کو گناہ کہا تھا حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہر ایک خود غرضی گناہ میں داخل نہیں ہے جیسے کھانا پینا وغیرہ جب تک کہ وہ خلاف کانشنس یا شریعت نہ ہو۔ جب خدا کے حکم کو توڑ کر کوئی شہوات کی خواہش کرے تو گناہ ہے اور جو (اشارہ مسیح ) اپنے نفس کے لئے نجات چاہتا ہے یہ خود غرضی ہے کہ نہیں؟