ملفوظات (جلد 3) — Page 298
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۸ جلد سوم نام کے ساتھ لگا لیا ہے تب شاگرد نے کہا اب ٹھیک ہے باعث تو معلوم ہو گیا۔ پکٹ کو ضرور چٹھی لکھنی چاہیے اگر مقابلہ کرے تو خوب اثر ہو گا اور لوگ بھی توجہ کریں گے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ چٹھی لکھ دی ہوئی ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ بہ نسبت امریکہ کے ولایت والوں کو ہم سے بہت واسطہ ہے۔ اس کا اگر مقابلہ ہو اور وہ لکھا جاوے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کر دے۔ ڈوئی نے تو کم مرتبہ اختیار کیا ہے مثل غلاموں کے۔ اگر وہ ( پگٹ ) ذرہ دلیر بنے تو یہ (ڈوئی ) قابو آیا ہوا ہے کیونکہ وہ اس کی مقررہ میعاد کے اندر آگیا ہے۔ کہہ دیوے کہ مسیح پانی کی طرح پگھل کر آسمان سے آیا ہے اور میرے اندر رچ گیا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دجال کے متعلق جب سوال ہوا کہ وہ کیا ایسے اعلیٰ درجہ والا ہو گا کہ چاند سورج سب پر اختیار پاوے گا اور مردہ زندہ کرے گا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ جھوٹ ہے اسے رتی بھر اختیار نہ ہو گا صرف مکر اور حیلہ ہی ہوگا۔ ڈوئی نے ایک بات عجیب کی ہے کہ معجزات مسیح کی مٹی پلید کر دی ۔ سلب امراض کے معجزہ ہی مسیح کی نسبت ان کے ہاتھ میں تھے ویسے ہی ڈوئی بھی کرتا ہے اور جب کوئی اعتراض کرے کہ تمہاری لڑکی اچھی نہ ہوئی تو جواب دیتا ہے کہ مسیح سے بھی فلاں فلاں مریض اچھا نہ ہوا۔ کیسے منحوس معجزے تھے کہ جو شخص ان کے نزدیک کافر ہے وہ بھی وہ معجزے دکھلا سکتا ہے حالانکہ موسیٰ کی طرح نہ اس نے سوٹے کا سانپ بنایا اور نہ کچھ اور۔ بس یہی استدلال کافی ہے کہ زہے خدائی ایک کافر نے بھی وہ بات کر کے دکھادی ۔سلب امراض کوئی تھے نہیں ہے یہودی بھی کر سکتے ہیں اور فاسق فاجر جو خدا کی راہ سے غافل ہیں وہ بھی کر سکتا ہے۔ ڈوئی سے پوچھا جاوے کہ مسیح کے معجزات تو وہی ہیں جو تو کر رہا ہے اور تو ان لوگوں کے نزدیک کافر ہے اب بتلا کہ مسیح کے وہ معجزات کو نسے ہیں جو اس کی خدائی پر دلیل ہیں؟ آنحضرت کے زمانہ میں ایرانی لوگ مشرک تھے اور قیصر روم جو کہ عیسائی تھا دراصل موحد تھا اور مسیح کو ابن اللہ نہیں مانتا تھا۔ اور جب اس کے سامنے مسیح کا وہ ذکر جو قرآن میں درج ہے پیش کیا گیا تو