ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 297

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۷ جلد سوم جسے خدا بنا رہا ہے تو اسے کچھ جرات بھی ہے کہ نہیں ۔ اگر ذکر نہ کیا تو معلوم ہوگا اس عقیدہ میں اسے خود کھٹکا ہے۔ جس جگہ اس نے ہاتھ ڈالا ہے اس تھ ڈالا ہے اس کا اسے خود علم نہیں ۔ جو علم نہیں ۔ جو توحید پر نہیں ہوتا اسے اس کا قلب خود جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ ان لوگوں نے ہزاروں بخشیں کیں اور جلسہ بھی کئے مگر اب تک کوئی ایسی خصوصیت ثابت نہ کر سکے کہ حضرت مسیح کو انسان سے برتر کچھ خصوصیت ہے کہ نہیں ۔ ٹھا کر داس نے یہ بھی مان لیا ہے کہ انجیل کتب سابقہ کا خلاصہ ہے کوئی نئی نہیں ہے۔ مسیح صرف مصلوب ہونے کو آیا تھا۔ ڈوئی کے نزدیک انسان حقہ ، شراب اور سور کھانے سے تو کافر ہو جاتا ہے مگر انسان کو خدا بنانے سے نہیں ہوتا۔ اور مشرک تو مثل چوہوں کے ہیں ان سے نفرت کرتا ہے اور جو بڑا بھاری شرک ہاتھی کی مثال ہے اسے قبول کیا ہوا ہے۔ قوم کو چونکہ اس شرک میں بہت ہی گرفتار دیکھا اس لئے دلیری نہ کر سکا کہ ان کی مخالفت کرے ( مسیح کو خدا مانتے ہیں ) ۔ پکٹ کے ذکر پر فرمایا کہ پکٹ لوگ بہت ہی گھبرائے ہوئے ہیں کہ آخر گھر گھر کر میں کم نگار ہے ہیں۔ ڈوئی و پکٹ کے دعاوی کی اشاعت پر فرمایا کہ ان کی شہرت کا باعث اخبار ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں پنجاب کے اخبار تو گویا برائے نام ہیں وہاں تو ایک دن میں لاکھوں کو خبر ہو جاتی ہے۔ ڈوئی کی نسبت اگر ہمارے مقابلہ پر پگٹ آوے تو بہت اثر ہوگا۔ دجال ایک گروہ کا نام ہے اور مسیح سیاحت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ان لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا کہ خدا کی کتابوں کو توڑ مروڑ کر اپنے منشا کے مطابق بنا لیا اور پھر فلسفہ کے رنگ میں خدائی کا دعویٰ کیا۔ ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک شاگرد استاد سے پڑھ رہا تھا سبق میں مثال آئی ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرُوا شاگرد نے استاد سے پوچھا کہ زید نے عمرو کو کیوں مارا؟ استاد نے کہا صرف ایک مثال ہے۔ شاگرد نے کہا کہ نہیں یہ تو اصل واقعہ ہے سبب بتلائیے کہ مار کی نوبت کیوں پہنچی ؟ آخر استاد نے دیکھا کہ یہ پیچھا نہیں چھوڑتا اس لئے کہا کہ اب مجھے سبب مار کا یاد آ گیا کہ عمرو نے و کا حرف چرا لیا ہے اور اپنے