ملفوظات (جلد 3) — Page 269
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۹ جلد سوم ساتھ ان کو بھی کوئی مصدق خواب آجایا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے خواب دیکھا کہ ایک بڑا بکس ادویہ کا چراغ لایا ہے اور شیخ رحمت اللہ صاحب نے روانہ کیا ہے جب کھولا گیا تو دیکھا کہ ہزار ہا رحمت اللہ تو دیکھا کہ شیشیاں اس میں دوا کی ہیں کوئی بڑی کوئی چھوٹی ۔ تب گھر میں تعجب کیا کہ کبھی کدائیں سے دس بارہ شیشیاں منگوائی جاتی تھیں مگر یہ ہزار ہا شیشیاں کیوں منگوائی گئیں ۔ یہ خواب بھی عِنْدِی مُعَالِجَات کی تصدیق کرتا ہے مجھے بتلایا گیا۔ ان کو دکھلایا گیا۔ سے علاج حرام تو نہیں اب دیکھو انگریزوں نے ریل بنائی اسباب سے استفادہ جائز ہے ہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تار ایجاد کی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ تیلیاں آگ جلانے کی ولایت سے آتی ہیں اسی طرح اگر ان کی دوا ہوا اور ہم استعمال کریں تو حرج نہیں ۔ ہاں جو خدا بتلا دیوے وہ بارج نشان نہیں ہے اگر ٹیکہ کروا کر یہ کہیں کہ نشان ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم کو علیحدہ رکھا جاتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مخفی امر ہے جو بعد ازاں معلوم ہو گا ور نہ ہم ان کی چیزیں اور ادویہ استعمال کرتے ہی ہیں ۔ ہے لے اخبار الحکم نے مزید یہ لکھا ہے۔ 66 حکیم فضل الدین کی بیوی اور ہر ودائی پاس کھڑی ہیں ۔“ (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) کے ”کدائیں پنجابی لفظ ہے جو کبھی کبھار کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے (مرتب) سے الحکم میں مزید یہ لکھا ہے۔ ”خدا کی قدرت ہے کہ کیسا عجیب تو ارد ہے ادھر الہام میں رَحْمَةً مِّنا ہے ادھر رویا میں دکھایا گیا ہے کہ رحمت اللہ نے بھیجا ہے اور پھر حکیم فضل الدین کی بیوی مریم کا پاس ہونا چراغ کالا نا یہ سب مبشرات ہیں ۔“ ہ الحکم میں ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) قرآن شریف میں صاف آیا ہے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ ( المدثر : ۶ ) اس لئے ضروری ہے کہ صفائی کا التزام رکھا جاوے۔ خدا کی شان ہے کہ یورپ کی ہم صد با چیزیں استعمال کرتے ہیں ریل ، تار، پریس ، اور بہت سی اشیاء حتی کہ دیا سلائی تک سے تو فائدہ اٹھاتے ہیں مگر خدا کی کوئی عظیم الشان حکمت ہے کہ ہم کو ٹیکہ کی طرف توجہ نہیں دلائی بلکہ فرما یا عِندِی مُعالِجات اور عندی کو مقدم کرکے اور بھی تاکید کا رنگ پیدا کیا کہ معالجات میرے ہی پاس ہیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰)