ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 18

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸ جلد سوم کی رو سے کوئی نمونہ کامل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بالمقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں کہ کیسے روحانی اور جسمانی طور پر انہوں نے عذاب الیم سے چھڑایا اور گناہ کی زندگی سے اُن کو نکالا کہ عالم ہی پلٹ دیا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کی شفاعت سے بھی فائدہ پہنچا۔ عیسائی جو مسیح کو مثیل موسیٰ قرار دیتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ موسیٰ کی طرح انہوں نے گناہ سے قوم کو بچایا ہو۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے بعد قوم کی حالت بہت ہی بگڑ گئی اور اب بھی اگر کسی کو شک ہو تو لنڈن یا یورپ کے دوسرے شہروں میں جا کر دیکھ لے کہ آیا گناہ سے چھڑا دیا ہے یا پھنسا دیا ہے اور یوں کہنے کو تو ایک چوہڑا بھی کہہ سکتا ہے کہ بالمیک نے چھوڑا یا مگر یہ نرے دعوے ہی دعوے ہیں جن کے ساتھ کوئی واضح ہے۔ پس عیسائیوں کا یہ کہنا کہ میچ چھوڑانے کے لیے آیا تھا۔ ایک خیالی بات ہے جبہ دیکھتے ہیں کہ ان کے بعد قوم کی حالت بہت بگڑ گئی اور روحانیت سے بالکل دور جا پڑی۔ ہاں سچا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنادیا اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپ کی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لیے اللہ تعالی نمونہ بھیج دیتا ہے اس کے بعد استغفار کا مسئلہ بھی قابل غور ہے۔ عیسائیوں نے اپنی جہالت اور نادانی سے اس پاک اصول پر بھی نکتہ چینی کی ہے حالانکہ یہ انسان کی طبعی منزلوں میں سے ایک منزل ہے۔ جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کیے ہیں الْحَيُّ اور الْقَيُّومُ - الْحَيُّ کے معنے ہیں خود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطا کرنے والا ۔ الْقَيُّومُ خود قائم اور دوسروں کے قیام کا اصلی باعث ۔ ہر ایک چیز کا ظاہری باطنی قیام اور زندگی انہیں دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔ پس جی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے اور الْقَيُّومُ چاہتا ہے کہ اس سے سہارا طلب کیا جاوے اس کو إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔ حی کا لفظ عبادت کو اس لیے چاہتا ہے کہ اس نے پیدا کیا اور پھر پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا۔ جیسے