ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 17

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷ جلد سوم عصمت اور شفاعت (ایڈیٹر کے اپنے الفاظ میں ) تعجب ہے کہ عیسائی لوگ شفاعت کے لیے عصمت کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں نری عصمت شفاعت کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ شفاعت تب ہو سکتی ہے جب کہ شفیع معصوم ہو اور پھر وہ ابن اللہ ہو اور پھر صلیب پر لٹکایا جا کر ملعون ہو۔ جب تک یہ تثلیث عیسائی مذہب کے عقیدہ کے موافق قائم نہ ہو شفیع نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ عصمت عصمت ہی کیوں پکارتے ہیں ۔ کیا اگر کوئی معصوم ان کے سامنے پیش کیا جاوے یا ثابت کر دیا جاوے تو وہ مان لیں گے کہ وہ شفیع ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ عیسائی عقیدہ کے موافق یہ ضروری ہے کہ وہ خدا بھی نہ ہو بلکہ ابن اللہ ہو اور وہ مصلوب ہو کر جب تک ملعون نہ ہوئے ہرگز ہرگز وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔ پھر ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ جبکہ یسوع خود خدا تھا اور اس لیے وہ علت انعلل تھا اور اس نے کل جہان کے گناہ بھی اپنے ذمے لئے پھر وہ معصوم کیوں کر ہوا۔ اور گناہوں کا تذکرہ ہم چھوڑتے ہیں جو یہودی مؤرخوں اور فری تھنکروں ( آزاد خیال ) نے ان کی انجیل سے ثابت کیے ہیں لیکن جب اس نے خود گناہ اُٹھا لیے اور بوجہ علت العلل ہونے کے سارے گناہوں کا کرانے والا وہی ٹھہرا تو پھر اسے معصوم قرار دینا عجیب دانش مندی ہے۔ پھر خدا کا نام معصوم نہیں کیونکہ معصوم وہ ہے جس کا کوئی دوسرا عاصم ہو۔ خدا کا نام عاصم ہے۔ اس لیے جب شفاعت کے لیے اہنیت کی ضرورت ہے اور اُس کے لیے بھی مصلوبیت کی لعنت ضروری ہے تو یہ سارا تانا بانا ہی بنائے فاسد بر فاسد کا مصداق ہے۔ حقیقی اور سچی بات یہ ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی کہ شفیع کے لیے ضروری ہے کہ اول خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہوتا کہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کرے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہو تا کہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتا ہے مخلوق کو پہنچاوے۔ جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں شفیع نہیں ہو سکتا۔ پھر اسی مسئلہ پر تیسری بحث قابلِ غور یہ ہے کہ جب تک نمونے نہ دیکھے جائیں کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اور ساری بخشیں فرضی ہیں۔ مسیح کے نمونہ کو دیکھ لو کہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے ۔ ہمیشہ ان کو سست اعتقاد کہتے رہے بلکہ بعض کو شیطان بھی کہا اور انجیل