ملفوظات (جلد 3) — Page 243
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۳ ہوتے ہیں اور جن کو فراست دی گئی ہے وہ سمجھ لیتے ہیں ۔ عربی کی بجائے اپنی زبان میں نماز پڑھنا درست نہیں سائل ۔ ایک شخص نے رسالہ لکھا تھا کہ ساری نماز اپنی ہی زبان میں پڑھنی چاہیے۔ جلد سوم حضرت اقدس ۔ وہ اور طریق ہوگا جس سے ہم متفق نہیں ۔ قرآن شریف بابرکت کتاب ہے اور رب جلیل کا کلام ہے۔ اس کو چھوڑ نا نہیں چاہیے۔ ہم نے تو ان لوگوں کے لیے دعاؤں کے واسطے کہا ہے جو اتی ہیں اور پورے طور پر اپنے مقاصد عرض نہیں کر سکتے ۔ ان کو چاہیے کہ اپنی زبان میں دعا کر لیں ۔ ان لوگوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ فتح محمد ایک شخص تھا۔ اس کی چی بہت بڑھی ہو گئی تھی۔ اس نے کلمہ کے معنے پوچھے تو اس کو کیا معلوم تھا کہ کیا ہیں ۔ اس نے بتائے تو اس عورت نے پوچھا کہ محمد مرد تھا یا عورت تھی ۔ جب اس کو بتایا گیا کہ وہ مرد تھا تو وہ حیرت زدہ ہو کر کہنے لگی کہ پھر کیا میں اتنی عمر تک بیگانے مرد ہی کا نام لیتی رہی؟ یہ حالت مسلمانوں کی ہو گئی ہے۔ مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی نے جب حضرت حجتہ اللہ تقریر ختم کر چکے تو مستفسر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ صاحب سفر السعادة نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ نماز کے بعد دعا کی حدیث ثابت نہیں۔ اس پر پھر حضرت اقدس نے سلسلہ کلام یوں شروع کیا کہ میرا مذہب یہ ہے کہ حدیث کی بڑی تعظیم کرنی چاہیے کیونکہ یہ حدیث پر میرا مذہب آنحضرت سے منسوب ہے۔ جب تک قرآن شریف سے متعارض نہ ہو تو مستحسن یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے۔ مگر نماز کے بعد دعا کے متعلق حدیث سے التزام ثابت نہیں۔ ہمارا تو یہ اصول ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے جو قرآن شریف کے مخالف نہ ہو۔ اس کے بعد دو تین آدمیوں نے بیعت کی درخواست کی اور آپ نے بیعت میں داخل کیا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۱، ۱۲