ملفوظات (جلد 3) — Page 242
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۲ جلد سوم ہوئیں ۔ لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی ۔ اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے ۔ ان کے نیچے جو حقیقت اور مغز تھا وہ نکل گیا۔ اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔ یا د رکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز ۔ صلوۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں ۔ یہ قرب کی کنجی ہے۔ اسی سے کشوف ہوتے ہیں۔ اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں ۔ یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سے سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں ۔ ہم دعاؤں سے انکار نہیں کرتے بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دعاؤں کی قبولیت پر ایمان ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے اُدْعُونِی اسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن : ۶۱) فرمایا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد دعا کرنا فرض نہیں ٹھہرایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی التزامی طور پر مسنون نہیں ہے۔ آپ سے التزام ثابت نہیں ہے۔ اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ معصیت ہوتی ۔ تقاضاء وقت پر آپ نے خارج نماز میں بھی دعا کر لی۔ اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپ کا سارا ہی وقت دعاؤں میں گذرتا تھا۔ لیکن نماز خاص خزینہ دعاؤں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے۔ اس لیے اس کا فرض ہے کہ جب تک اس کو درست نہ کرے اور طرف توجہ نہ کرے کیونکہ جب نفل سے فرض جا تا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص ذوق اور حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو پھر خارج نماز میں بے شک دعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے ۔ ہم تقدیم نماز کی چاہتے ہیں اور یہی ہماری غرض ہے ۔ مگر لوگ آج کل نماز کی قدر نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے بہت بعد ہو گیا۔ مومن کے لیے نماز معراج ہے اور وہ اس سے ہی اطمینانِ قلب پاتا ہے کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اپنی عبودیت کا اقرار ، استغفار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود غرض وہ سب امور جو روحانی ترقی کے لیے ضروری ہیں موجود ہیں۔ ہمارے دل میں اس کے متعلق بہت سی باتیں ہیں جن کو الفاظ پورے طور پر ادا نہیں کر سکتے ۔ بعض سمجھ لیتے ہیں اور بعض رہ جاتے ہیں ۔ مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم تھکتے نہیں کہتے جاتے ہیں۔ جو سعید ۔