ملفوظات (جلد 3) — Page 173
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۳ جلد سوم اس لیے اس میں اُنس ، شفقت کا مادہ زیادہ ہے۔ اگر اس میں یہ قوتیں نہ ہوتیں تو پھر بچوں اور دوسرے کمزور لوگوں کی پرورش کیوں کر کرتا؟ حقوق کا ادا کرنا، دوستی کے تعلقات یہ سب اُنس کو چاہتے ہیں ۔ دوستوں کے لیے فکر وغم اس طرح پر میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر یہ سلسلہ بڑھتا جاتا ہے اس قدر میرے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں اور متعلقین کا غم اور فکر بڑھ رہا ہے اور ہر روز کسی نہ کسی عزیز یا دوست کی تکلیف کی کوئی نہ کوئی خبر آجاتی ہے تو میں اس سے سخت کرب اور بے آرامی میں رہتا ہوں اور بعض وقت تو یہاں تک حالت ہوتی ہے کہ نیند بھی نہیں آتی ۔ یہ سچی بات ہے کہ جس قدر تعلقات بڑھتے ہیں اسی قدر غم اور فکر بڑھتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حال لکھتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں بڑا خوش ہوں کیونکہ بے تعلق ہوں مگر یہ کوئی فضیلت اور خوبی نہیں ہے۔ اس سے اخلاق کے سارے شعبے مکمل نہیں ہوتے ۔ یہ نقص کی بات ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بچے مرے تھے آپ نے جو ثبات قدم اور رضا بالقضا کا کامل نمونہ دکھا یا کسی اور کی زندگی میں کہاں ملتا ہے ؟ ! بلا تاریخ کیا مسیح نے جھوٹھ کہا شاہ پور کے ضلع میں کسی نئے مخالف نے جنم لیا ہے جن کا نام غالباً مولوی یا محمد ہے اس کی کوئی مطبوعه کتاب مراة الحق اور کچھ قلمی اوراق عربی زبان بی زبان میں آئے تھے ان کا ذکر حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے کیا اور اس کے رسائل کا خلاصہ بیان کیا جن میں سے وفات مسیح بھی تھا حضرت اقدس نے فرمایا کہ تعجب ہی ہے ان لوگوں نے مسیح کی نسبت یہ عقیدہ رکھا ہوا ہے کہ وہ مردے زندہ کیا کرتا تھا اور بعض الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۴