ملفوظات (جلد 3) — Page 141
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۱ جلد سوم مومن کی ہمدردی کا میدان سب سے پہلے اتنا وسیع ہونا چاہیے کہ تمام چرند، پرند اور گل مخلوق اس میں آجاوے۔ پھر دوسری صفت رحمن کی بیان کی ہے جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تمام جاندار مخلوق سے ہمدردی خصوصاً کرنی چاہیے اور پھر رحیم میں اپنی نوع سے ہمدردی کا سبق ہے۔ غرض اس سورۂ فاتحہ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں یہ گویا خدا تعالیٰ کے اخلاق ہیں جن سے بندہ کو حصہ لینا چاہیے۔اور وہ یہی ہے کہ اگر ایک شخص عمدہ حالت میں ہے تو اس کو اپنی نوع کے ساتھ ہر قسم کی ممکن ہمدردی سے پیش آنا چاہیے۔ اگر دوسرا شخص جو اس کا رشتہ دار ہے یا عزیز ہے خواہ کوئی ہے اس سے بیزاری نہ ظاہر کی جاوے اور اجنبی کی طرح اس سے پیش نہ آئیں بلکہ ان حقوق کی پروا کریں جو اس کے تم پر ہیں۔ اس کو ایک شخص کے ساتھ قرابت ہے اور اس کا کوئی حق ہے تو اس کو پورا کرنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک اپنے اخلاق دکھائے ہیں کہ بعض وقت اخلاق عالیہ ایک بیٹے کے لحاظ سے جو سچا مسلمان ہے منافق کا جنازہ پڑھ دیا ہے بلکہ اپنا مبارک گرتہ بھی دے دیا ہے۔ اخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے جب تک انسان اپنا مطالعہ نہ کرتا رہے یہ اصلاح نہیں ہوتی ۔ زبان کی بداخلاقیاں دشمنی ڈال دیتی ہیں اس لیے اپنی زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہیے۔ دیکھو! کوئی شخص ایسے شخص کے ساتھ دشمنی نہیں کر سکتا جس کو وہ اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے۔ پھر وہ شخص کیسا بیوقوف ہے جو اپنے نفس پر بھی رحم نہیں کرتا اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے جبکہ وہ اپنے قومی سے عمدہ کام نہیں لیتا اور اخلاقی قوتوں کی تربیت نہیں کرتا۔ ہر شخص شخص کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے البتہ وہ شخص جو سلسلہ عالیہ یعنی دین اسلام سے علانیہ باہر ہو گیا ہے اور وہ گالیاں نکالتا اور خطرناک دشمنی کرتا ہے اس کا معاملہ اور ہے۔ جیسے صحابہؓ کو مشکلات پیش آئے اور اسلام کی تو ہین انہوں نے اپنے بعض رشتہ داروں سے سنی تو پھر باوجود تعلّقات شدیدہ کے ان کو اسلام مقدم کرنا پڑا اور ایسے واقعات پیش آئے جن میں باپ نے بیٹے کو یا بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مراتب کا لحاظ رکھا جاوے۔ گر حفظ مراتب نکنی زندیقی ع