ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 140

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۰ جلد سوم يَحْتَسِبُ (الطلاق: ۳، ۴) یعنی متقی کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے۔ اس کو ایسی جگہ سے رزق دیا جاتا ہے کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اب بتاؤ کہ یہ وعدہ سیدوں سے ہوا ہے یا متقیوں سے۔ اور پھر یہ فرمایا ہے کہ متقی ہی اللہ تعالیٰ کے ولی ہوتے ہیں۔ یہ وعدہ بھی سیدوں سے نہیں ہوا۔ ولایت سے بڑھ کر اور کیا رتبہ ہوگا۔ یہ بھی متقی ہی کو ملا ہے۔ بعض نے ولایت کو نبوت سے فضیلت دی ہے اور کہا ہے کہ نبی کی ولایت اس کی نبوت سے بڑھ کر ہے۔ نبی کا وجود دراصل دو چیزوں سے مرکب ہوتا ہے۔ نبوت اور ولایت۔ نبوت کے ذریعہ وہ احکام اور شرائع مخلوق کو دیتا ہے اور ولایت اس کے تعلقات کو خدا سے قائم کرتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ( البقرة : ٣) ، هُدًى لِلسَّيِّدِينَ نہیں کہا۔ غرض خدا تعالیٰ تقویٰ چاہتا ہے۔ ہاں سید زیادہ محتاج ہیں کہ وہ اس طرف آئیں کیونکہ وہ متقی کی اولاد ہیں۔ اس لیے ان کا فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے آئیں نہ یہ کہ خدا تعالیٰ سے لڑیں کہ یہ سادات کا حق تھا۔ وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَ اللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ( الجمعة : ٥) ۔ یہ ایسی بات ہے کہ جیسے یہودی کہتے ہیں کہ بنی اسمعیل کو نبوت کیوں ملی ۔ وہ نہیں جانتے تلک الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ( ال عمران : ۱۴۱) خدا تعالیٰ سے اگر کوئی مقابلہ کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ لو وہ ہر ایک سے پوچھ سکتا ہے۔ اُس سے کوئی نہیں پوچھ سکتا ۔ اے اگست ۱۹۰۲ء کے سورۂ فاتحہ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پیش کی ہے اور اس میں سب سے پہلی صفت اخلاق الہیہ رب العلمین بیان کی ہے جس میں تمام مخلوقات شامل ہے ۔ اس طرح پر ایک الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۹، ۱۰ کے اخبار میں یہ مضمون بلا تاریخ لکھا گیا ہے۔ اس پرچہ میں آخری تاریخ جس کی ڈائری درج کی گئی ہے ۱۹ اگست ۱۹۰۲ء ہے اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ یہ تقریر ۱۹ اگست اور ۲۴ را اگست کے مابین کسی تاریخ کو ہوئی ہوگی ۔ (شمس)