ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 3

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳ جلد دوم ( اس الہام سے بشارت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اب امیروں کو اس آسمانی سلسلہ کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہے ) ستمبر ۱۹۰۰ء رات مولوی نور الدین صاحب نے اس آیت کے معنے پوچھے۔ کلام الہی کے تین طریقے وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا ۔۔۔۔ الآية (الشوری: ۵۲ ) مولوی صاحب نے کہا کہ اس پر بہت سا جھگڑا ہوا۔ حضرت نے فرمایا۔ قبل اس کے کہ اس آیت کے حل کی طرف ہم متوجہ ہوں ۔ ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ تین ہی طریقے ہیں خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کے، چوتھا کوئی نہیں (۱) رویا (۲) مکاشفہ (۳) وحی ۔ نمازعشاء سے سلام پھیرنے کے بعد فرمایا۔ مولوی صاحب ! اس آیت کے معنے خوب کھل گئے ہیں ۔ مِنْ وَرَائِي حِجَابٍ سے مراد رو یا کا ذریعہ ہے۔ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ کے معنے یہ ہیں کہ اس پر استعارے غالب رہتے ہیں ۔ جو حجاب کا رنگ رکھتے ہیں ۔ اور یہی رویا کی ہیئت ہے۔ يُرْسِلَ رَسُولًا سے مراد مکاشفہ ہے۔ رسول کا تمثل بھی مکاشفہ میں ہی ہوتا ہے اور مکاشفہ کی حقیقت یہی ہے کہ وہ تمثلات ہی کا سلسلہ ہوتا ہے۔ ا اس کے بعد بڑے جوش اور خوشی سے فرمایا کہ قرآن کریم کیسے کیسے حقیقی اور عظیم علوم بیان فرماتا ہے۔ اس آیت کے ہمرنگ انجیل و توریت میں تو ڈھونڈ کر بتاؤ۔ مولوی صاحب نے پوچھا تھا اس تفسیر سے پہلے کہ مِنْ وَرَائِی حِجَابٍ سے یہ مطلب ہو کہ