ملفوظات (جلد 2) — Page 612
جلد دوم له ولد ۷۵ ۸۳ ۳۳۵ ۱۶۷ ۹۱ ۲۸۱ ۳۱۱ ۱۰۱ ۷۸ ۱۳۲ ۹۷ ۱۳۷ ۲۱۰ ۲۱۷ فوٹو بنوانے کی غرض اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں میں یقین کرتا ہوں کہ جس قدر وقت میرا گزرتا ہے وہ سب عبادت ہی ہے امر الہی کی تعمیل ہم کو تو خدا پر اتنا بھروسہ ہے کہ ہم تو اپنے لیے دعا بھی نہیں کرتے مشکلات پیش آنے پر صرف دعا اور تضرع میں مصروف ہونا میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لیے دعا نہیں کرتا اپنی جماعت کے لیے دعا ہمارا تعلق دوستوں سے اس قدر ہے کہ جس قدر دوست ہیں اور اہل و عیال ہیں گویا ہمارے ہی ہیں ہمیں اتفاق نہیں ہوا کہ انگریزی میں لکھ پڑھ سکتے اگر ایسا ہوتا تو ہم کبھی بھی اپنے دوستوں کو تکلیف نہ دیتے میں قسماً کہتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے ساتھ کوئی عداوت نہیں ۷۴ ۳۵۰ ۱۲۸ ۳۲۳ ۱۷۴ ۳۹۸ ۳۱۸ ۳۷۴ ۳۲۳ ۳۴۱ ملفوظات حضرت مسیح موعود اس اعتراض کا جواب کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت کا دعویٰ کیا ہے میں ہمیشہ سے اس بات پر اعتقاد رکھتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ بے باپ پیدا ہوئے تھے ہمارا ایمان ہے کہ مسیح کی پیدائش باپ کے بدوں خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نمونہ تھی جو یہ خیال پیدا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بے باپ پیدا نہیں کر سکتا ہم ایسے آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں سلطان القلم عربی زبان میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کا ارادہ کتاب اعجاز اسیح کے ذکر میں فرمایا۔ میں عربوں کے دعوئی ادب و فصاحت و بلاغت کو بالکل توڑنا چاہتا ہوں عورتوں کے لیے قصہ کے پیرایہ میں سوال و جواب کے طور پر سارے مسائل عبارت میں تصنیف کرنے کا ارادہ میں ( یہودیوں اور فری تھنکرز کے ) یہ سارے اعتراض جمع کر کے خود حضرت مسیح کی طرف سے جواب دوں گا اخلاق و عادات مشاہدات اور تجرباتی طبیعت مصروفیت کا حال صبح کی سیر کا معمول بعد نماز مغرب احباب میں تشریف رکھنے ۳۱۹ ۳۲۵،۳۲۴ ۳۲۲ ،۳۰۹ ،۲۸۰،۲۲۰ مجھے اپنی دشمنی اور اپنی توہین یا عزت یا تعظیم کا تو کچھ بھی خیال نہیں ہے ہم ذاتیات میں دخل نہیں دیتے یہ تقویٰ کے کا معمول خلاف ہے اپنی بیماریوں کی کثرت کے بارے میں فرمایا اس ہم بحث کرنا نہیں چاہتے ہمارا مطلب صرف میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے مصالح ملحوظ ہیں ۷ سمجھا دینا ہوتا ہے