ملفوظات (جلد 2) — Page 525
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲۵ جلد دوم جمع کر دیا ہے۔ کیا یہ انسانی طاقت میں ہے کہ اس طرح پر دوصدیوں کا صاحب ہو جاوے۔ ہندوؤں کی صدی بھی پائی اور عیسائیوں کی بھی ۔ مفتی صاحب نے تو کوئی ۱۶ یا ۷ اصدیاں جمع کر کے دکھائی تھیں ۔ غرض ذوالقرنین کے معنے ہیں دو صدیاں پانے والا ۔ اب خدا تعالیٰ نے اس کے لیے تین قوموں کا ذکر کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی قوم جو مغرب میں ہے اور آفتاب وہاں غروب ہوتا ہے اور وہ تاریکی کا چشمہ ہے۔ یہ عیسائیوں کی قوم ہے۔ جس کا آفتاب صداقت غروب ہو گیا اور آسمانی حق اور نوران کے پاس نہیں رہا۔ دوسری قوم اس کے مقابل میں وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے مگر آفتاب سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی ۔ یہ مسلمانوں کی قوم ہے جن کے پاس آفتاب صداقت قرآن شریف اس وقت موجود ہے مگر دابةُ الْأَرْضِ نے اُن کو بے خبر بنادیا ہے اور وہ اس سے اُن فوائد کو حاصل نہیں کر سکتے بجز جلنے اور دکھ اٹھانے کے جو ظاہر پرستی کی وجہ سے اُن پر آیا۔ پس یہ قوم اس طرح پر بے نصیب ہو گئی۔ اب ایک تیسری قوم ہے جس نے ذوالقرنین سے التماس کی کہ یا جوج ماجوج کے درے بند کر دے تا کہ وہ ان کے حملوں سے محفوظ ہو جاویں۔ وہ ہماری قوم ہے جس نے اخلاص اور صدق دل سے مجھے قبول کیا ۔ خدا تعالیٰ کی تائیدات سے میں ان حملوں سے اپنی قوم کو محفوظ کر رہا ہوں جو یا جوج ماجوج کر رہے ہیں ۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ تم کو تیار کر رہا ہے۔ تمہارا فرض ہے کہ سچی توبہ کرو اور اپنی سچائی اور وفاداری سے خدا کو راضی کرو تا کہ تمہارا آفتاب غروب نہ ہو اور تاریکی کے چشمہ کے پاس جانے والے نہ ٹھہرو اور نہ تم اُن لوگوں سے بنو جنہوں نے آفتاب سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ پس تم پورا فائدہ حاصل کرو اور پاک چشمہ سے پانی پیو تا خدا تم پر رحم کرے۔ بد قسمت انسان وه انسان بد قسمت ہوتا ہے جوخدا تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان لا کر وفاداری اور صبر کے ساتھ ان کا انتظار نہیں کرتا اور شیطان کے وعدوں کو یقینی سمجھ بیٹھتا