ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 524 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 524

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲۴ جلد دوم تم ان راہوں سے آؤ بے شک وہ تنگ راہیں ہیں لیکن اُن سے داخل ہو کر راحت اور آرام ملتا ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اس دروازہ سے بالکل ہلکے ہو کر گزرنا پڑے گا اگر بہت بڑی گٹھڑی سر پر ہو تو مشکل ہے۔ اگر گزرنا چاہتے ہو تو اس گٹھڑی کو جو دنیا کے تعلقات اور دنیا کو دین پر مقدم کرنے کی گٹھڑی ہے پھینک دو۔ ہماری جماعت خدا کو خوش کرنا چاہتی ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو پھینک دے۔ تم یقیناً یا د رکھو کہ اگر تم میں وفاداری اور اخلاص نہ ہو تو تم جھوٹے ٹھہرو گے اور خدا تعالیٰ کے حضور راست باز نہیں بن سکتے ۔ ایسی صورت میں دشمن سے پہلے وہ ہلاک ہو گا جو وفاداری کو چھوڑ کر غداری کی راہ اختیار کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ فریب نہیں کھا سکتا اور نہ کوئی اُسے فریب دے سکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ تم سچا اخلاص اور صدق پیدا کرو۔ یدا کرو ۔ تم پر خدا تعالیٰ کی حجت سب سے بڑھ کر پوری ہوئی ہے۔ تم میں سے کوئی بھی نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا ہے۔ پس تم خدا تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہو اس لیے ضروری ہے کہ تقوی اور خشیت تم میں سب سے زیادہ پیدا ہو۔ اور ذوالقرنین خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں مختلف طریقوں اور پہلوؤں سے اس سلسلہ کی حقانیت کو ثابت کیا ہے اور بتایا ہے یہاں تک کہ ہر ایک قصہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مثلاً ذوالقرنین کا قصہ ہے اس میں اسی کی پیشگوئی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین مغرب کی طرف گیا تو اُسے آفتاب غروب ہوتا نظر آیا یعنی تاریکی پائی ں نے دیکھا۔ وہاں پر ایک قوم تھی۔ پھر مشرق کی طرف چلتا ہے تو دیکھا کہ ایک ایسی قوم ہے جو کسی اوٹ میں نہیں ہے اور وہ دھوپ سے جلتی ہے۔ تیسری قوم ملی جس نے یا جوج ماجوج سے بچاؤ کی درخواست کی۔ اب یہ بظاہر تو قصہ ہے لیکن حقیقت میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو اس زمانہ سے متعلق ہے۔ خدا تعالیٰ نے بعض حقائق تو کھول دیئے ہیں اور بعض مخفی رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ انسان اپنے قومی سے کام لے۔ اگر انسان نرے منقولات سے کام لے تو وہ انسان نہیں ہو سکتا۔ ذوالقرنین اس لئے نام رکھا کہ وہ دوصدیوں کو پائے گا۔ اب جس زمانہ میں خدا نے مجھے بھیجا ہے سب صدیوں کو بھی