ملفوظات (جلد 2) — Page 514
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱۴ جلد دوم یہ اس سے بدتر ہیں ۔ اس سے تو صرف ملک میں فتنہ پڑا تھا مگر ان سے دین میں فساد پیدا ہوا اور ایک لاکھ سے زائد لوگ مرتد ہو گئے ۔ ایک وہ وقت تھا کہ اگر ایک مرتد ہو جاتا تو گویا قیامت آجاتی تھی یا اب یہ حال ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ مرتد ہو گیا اور کسی کو خیال بھی نہیں ۔ کئی کروڑ کتا بیں اسلام کے خلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین اور ہجو میں لکھی گئی ہیں لیکن کسی کو خبر تک بھی نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ اپنے عیش وعشرت میں مشغول ہیں اور دین کو ایک ایسی چیز قرار دے دیا ہے جس کا نام بھی مہذب سوسائٹی میں لیا جانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام پر جو اعتراض طبعی فلسفہ کے رنگ میں کیے جاتے ہیں اُن کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکتے اور کچھ بھی بتا نہیں سکتے حالانکہ اسلام پر جو اعتراض عیسائی کرتے ہیں وہ خود ان کے اپنے مذہب پر ہوتے ہیں ۔ سب سے بڑا اعتراض جہاد پر کیا جاتا ہے لیکن جب غور کیا جاوے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اعتراض خود عیسائیوں کے مسلّمات پر پڑتے ہیں۔ اسلام نے جہاد کو اٹھایا اسلام پر اعتراض نہیں ۔ ہاں وہ اپنے گھر میں موسیٰ علیہ السلام کی لڑائیوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اور خود عیسائیوں میں جو مذہبی لڑائیاں ہوئی ہیں اور ایک فرقہ نے دوسرے فرقہ کو قتل کیا ۔ آگ میں جلایا اور دوسری قوموں پر جو کچھ ظلم وستم کیا جیسا کہ سپین میں ہوا۔ اس کا کوئی جواب ان عیسائیوں کے پاس نہیں ہے اور قیامت تک یہ اس کا جواب نہیں دے سکتے ۔ یہ بات بہت درست ہے کہ اسلام اپنی ذات میں کامل، بے عیب اور پاک مذہب ہے لیکن نادان دوست اچھا نہیں ہوتا ۔ اس دَابَّةُ الأَرْضِ نے اسلام کو نادان دوست بنا کر جو صدمہ اور نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی تلافی بہت ہی مشکل ہے لیکن اب خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اسلام کا نور ظاہر ہو اور دنیا کو معلوم ہو جاوے کہ سچا اور کامل مذہب جو انسان کی نجات کا متکفل ہے وہ صرف اسلام ہے اسی لیے خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ بخرام که وقت تو نزد یک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد لیکن ان ناعاقبت اندیش نادان دوستوں نے خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی قدر نہیں کی بلکہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ یہ نور نہ چمکے یہ اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ وعدہ کر