ملفوظات (جلد 2) — Page 513
ملفوظات حضرت مسیح موعود الله جلد دوم ان لوگوں نے اپنی راؤں اور خیالوں کو داخل کر کے اصل امر کو بدنما بنانے کی کوشش دَابَّةُ الْأَرْضِ کی ہے ان کی وہی مثال ہے مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ (سبا: ۱۵) یعنی سلیمان کی موت پر دلالت کرنے والا کوئی امر نہ تھا۔ یہ ساری شرارت گو یا دابةُ الْأَرْضِ کی تھی کہ اس نے عصا کھا لیا اور وہ گر پڑا ۔ خدا تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ سچ ہے۔ یہ قصے اور داستانیں نہیں ہیں بلکہ یہ حقائق اور معارف ہیں۔ اسلام راستی کا عصا تھا جو اپنے سہارے کھڑا تھا اور اس کے سامنے کوئی آریہ، ہندو، عیسائی دم نہ مار سکتا تھا لیکن جب سے یہ دَابَّةُ الْأَرْضِ پیدا ہوئے اور اُنھوں نے قرآن کو چھوڑ کر موضوع روایتوں پر اپنا انحصار رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنا انحصار رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف سے اسلام پر حملے ہونے شروع ہو گئے ۔ دابةُ الْأَرْضِ کے معنے اصل میں یہ ہیں کہ ایک دیمک ہوتی ہے جس میں کوئی خیر نہیں جو لکڑی اور مٹی وغیرہ کو کھا جاتی ہے۔ اس میں فنا کا مادہ ہے اور اچھی چیز کو فنا کرنا چاہتی ہے۔ اس میں آتشی مادہ ہے اب اس کا مطلب یہ ہے کے دَابَّةُ الْأَرْضِ اِس وقت کے علماء ہیں جو جھوٹے معنے کرتے ہیں اور اسلام پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عظمت کو حد سے بڑھاتے ہیں اور اُن کو خدا تعالیٰ کی صفات سے متصف قرار دیتے ہیں جبکہ اُن کو محی اور شافی، عالم الغیب، غیر متغیر وغیرہ مانتے ہیں اور ایسا ہی اسلام پر یہ جھوٹا الزام لگاتے ہیں کہ وہ تلوار کے بدوں نہیں پھیلا۔ بھوپال کے ایک ملا بشیر نے مجھے دجال کہا حالانکہ یہ لوگ خود دجال ہیں جو مجھے کہتے ہیں کیونکہ وہ حق کو چھپاتے ہیں اور اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ غرض عصائے اسلام جس کے ساتھ اسلام کی شوکت اور رعب تھا اور جس کے ساتھ امن اور سلامتی تھی اس دَابَّةُ الْأَرْضِ نے گرادیا ہے۔ پس جیسے وہ دَابَّةُ الْأَرْضِ تھا۔ اے ل دَابَّةُ الْأَرْضِ کے ایک معنے طاعون کے بھی ہیں جیسا کہ قرآن شریف کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے وَ إِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمُ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيْتِنَا لَا يُوقِنُونَ ( العمل : ۸۳) یعنی جب لوگوں پر حجت پوری ہو جائے گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک کیڑا نکالیں گے جو لوگوں کو اس واسطے کاٹے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ مھم کے معنے اقرب الموارد میں صاف کاٹنے کے کہتے ہیں۔ (ایڈیٹر )