ملفوظات (جلد 2) — Page 497
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۷ جلد دوم سکتے ۔ انسان کے ایمان کی تکمیل کے دو پہلو ہوتے ہیں اول یہ دیکھنا چاہیے کہ جب وہ مصائب کا تختہ مشق ہو اس وقت خدا تعالیٰ سے وہ کیسا تعلق رکھتا ہے؟ کیا وہ صدق ، اخلاص ، استقلال ، اور سچی وفاداری کے ساتھ ان مصائب پر بھی انشراح صدر سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو تسلیم کرتا اور اس کی حمد وستائش کرتا ہے یا شکوہ و شکایت کرتا ہے اور دوسرے جب اس کو عروج حاصل ہو اور اقبال اور فروغ ملے تو کیا اس اقتدار اور اقبال کی حالت میں وہ خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور اس کی حالت میں کوئی قابل اعتراض تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ یا اسی طرح خدا سے تعلق رکھتا اور اس کی حمد و ستائش کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو عفو کرتا اور ان پر احسان کر کے اپنی عالی ظرفی اور بلند حوصلگی کا حوصلگی کا ثبوت دیتا ہے۔ ۔ مثلاً ایک شخص کو کسی نے سخت مارا ہے اگر وہ اس پر قادر ہی نہیں ہوا کہ اس کو سزا دے سکے اور اپنا انتقام لے پھر بھی وہ کہے کہ دیکھو میں نے اس کو کچھ بھی نہیں کہا تو یہ بات اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتی اور اس کا نام بردباری اور حمل نہیں رکھ سکتے کیونکہ اسے قدرت ہی حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسی حالت ہے کہ گالی کے صدمہ سے بھی رو پڑے تو یہ ستر بی بی از بے چادری کا معاملہ ہے اس کو اخلاق اور بردباری سے کیا تعلق !!! مسیح کے اخلاق کا نمونہ اسی قسم کا ہے اگر انہیں کوئی اقتداری قوت ملتی اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی توفیق انہیں ہوتی پھر اگر وہ اپنے دشمنوں سے پیار کرتے اور ان کی خطائیں بخش دیتے تو بے شک ہم تسلیم کر لیتے کہ ہاں انہوں نے اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھا یا لیکن جب یہ موقع ہی ان کو نہیں ملا تو پھر انہیں اخلاق کا نمونہ ٹھہرانا صریح بے حیائی ہے ۔ جب تک دونوں پہلو نہ ہوں خلق کا صریح حیائی ۔ ثبوت نہیں ہو سکتا۔ اب مقابلہ میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب مکہ والوں نے آپ کو نکالا اور تیرہ برس تک ہر قسم کی تکلیفیں آپ کو پہنچاتے رہے آپؐ کے صحابہ کو سخت صحابہ کو سخت سخت تکلیفیں دیں جن کے تصور سے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اس وقت جیسے صبر اور برداشت سے آپ نے کام لیا وہ ظاہر بات ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ہجرت کی اور پھر فتح مکہ کا موقع ملا تو اس وقت ان تکالیف اور مصائب اور سختیوں کا خیال کر کے جو مکہ والوں نے تیرہ سال تک آپ پر اور آپ کی