ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 496

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۶ جلد دوم زندگی پر دنیا میں موت آجاتی اور فرشتوں کی زندگی بسر کرنے والوں سے دنیا معمور ہو جاتی مگر یہ کیا ہو گیا کہ چند خاص آدمی بھی جو آپ کی صحبت میں ہمیشہ رہتے تھے درست نہ ہو سکے۔ عیسائی اپنے خدا یسوع کا مقابلہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنے بیٹھ جاتے ہیں مگر تعجب ہے کہ انہیں شرم نہیں آتی کہ وہ اس طرز پر کبھی ایک قدم بھی چلنا گوارا نہیں کرتے اور اس طریق پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا مقابلہ کریں تو انہیں معلوم ہو جاوے۔ یا درکھو کہ نبی تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ ثابت انبیاء اخلاق اللہ کا پورا نمونہ ہوتے ہیں کرنے کے لئے آتے ہیں اور وہ اپنی عملی حالت سے دکھا دیتے ہیں کہ وہ اخلاق اللہ کا پورا نمونہ ہیں۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا میں جس قدر اشیاء خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ سب کی سب کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے مفید ہیں جیسے درخت بنایا نہ ہے اس کے پتے ، اس کا سایہ، اس کی چھال ، اس کی لکڑی، اس کا پھل غرض اس کے سارے حصہ کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ بخش ہیں۔ سورج کی روشنی سے انسان بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے اور اسی طرح پر تمام چیزیں ہیں جو انسان کے لئے مفید اور نفع رساں ہیں مگر ہم کو عیسائیوں کی حالت پر افسوس آتا ہے کہ انہوں نے ایک عاجز انسان کو خدا اور خدا کا بیٹا بھی قرار دیا ہے مگر اس کا کوئی فائدہ دنیا پر ثابت نہیں کر سکتے اور کوئی اس کی مقتدرانہ تجلی کا نمونہ ان کے ہاتھ میں نظر نہیں آتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کا ابن اللہ اگر پدر نتواند پسر تمام کند کا مصداق ہوتا مگر جب اس کی سوانح عمری پر غور کرتے ہیں تو پدرتواند کا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا نری خودکشی اور دوسروں کی مصیبت کو دیکھ کر اپنی جان پر کھیل جانا یہ کیا دانش مندی اور مصلحت ہے اور اس سے ان مصیبت زدوں کو کیا فائدہ ! انصاف اور ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نمونہ ام ال ال عالم کے مقابل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مسیح کو بالکل نا کامیاب ماننا پڑتا ہے کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قسم کا موقع ملا ہے مسیح کو نہیں ملا ہے اور یہ ان کی بد قسمتی ہے یہی وجہ ہے کہ مسیح کو کامل نمونہ ہم کہہ ہی نہیں