ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page v of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page v

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام از ۱۹۰۰ء تا ۲۰ نومبر ۱۹۰۱ء) ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ دوسری جلد ہے جو ۱۹۰۰ء سے لے کر ۲۰ نومبر ۱۹۰۱ء تک کے ملفوظات پر مشتمل ہے اور جیسا کہ پیش لفظ جلد اوّل میں لکھا جا چکا ہے۔ ملفوظات سے مراد آپ کا وہ کلام ہے جو آپ نے کسی مجمع یا مجلس یا سیر وغیرہ میں بصورت تقریر یا گفتگو ارشاد فرمایا۔ اور اس کا مرتبہ یقین اور سند کے لحاظ سے حضور کی تالیفات، اشتہارات اور مکتوبات کے بعد ہے کیونکہ مؤخر الذکر حضور کی اپنی خود نوشت تحریریں ہیں اور ملفوظات ڈائری نویسوں نے لکھے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ وہ سب الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہی الفاظ ہوں۔اس مناسبت سے میں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی کبیر مرحوم مدیر الحکم کے جو خود ڈائری نویس بھی تھے الفاظ درج کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں ۔ تا قارئین کرام پر ان ملفوظات کا استنادی مرتبہ واضح ہو جائے۔ رض حضرت مرحوم و مغفور تحریر فرماتے ہیں۔ وو جس کا جی چاہے حضرت مسیح موعود کے قدموں میں رہ کر اس بات کو آزما لے۔ صدق اور اخلاص کے ساتھ اس پاک امام کی صحبت انسان کو کیا کچھ انعام کا مستحق کرتی ہے۔ اس پاک اور خدا نما مجلس کی گفتگو کا ایک ادنی سا نمونہ تم اس ڈائری میں دیکھتے ہو۔ اور اس کی مثال بھی اس پانی کی سی ہے جو چشمہ سے دُور کسی کے واسطے بھیجا جائے ۔ اول تو سب باتوں اور کیفیتوں اور حالات کو انسان لکھ ہی کیا سکتا ہے۔ پھر اگر لکھا بھی جاتا ہے تو اصل الفاظ سارے کے سارے کہاں محفوظ لحوظ رہتے ہیں ۔ بعض دفعہ حضرت اقدس کی بات کا صرف مطلب ہی مجھے یا د رہتا ہے جو میں اپنے لفظوں میں لکھ لیتا ہوں اور بعض دفعہ حضرت کے الفاظ بعینہ یاد بھی رہتے ہیں یا اکثر