ملفوظات (جلد 2) — Page 487
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۷ جلد دوم آپ نے تعلیم پائی جو معلومات وسیع ہوتے اور نہ کوئی اور ذرائع لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے تھے جیسے تار یا اخبار یا ڈاک خانے وغیرہ ۔ آپ کو تو دنیا کے بگڑ جانے کی اطلاع صرف خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ملی ۔ جب یہ آیت اتری ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے ۔ دریاؤں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو پانی دیا گیا یعنی شریعت اور کتاب اللہ ملی اور جنگل سے مراد وہ ہیں جن کو اس حصہ نہیں ملا تھا ۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب بھی بگڑ گئے اور مشرک بھی ۔ الغرض آپ کا زمانہ ایسا سے حصہ زمانہ تھا کہ دنیا تاریکی میں پھیلی ہوئی تھی۔ دلائل صداقت اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا تا تاریکی کو دور کریں۔ ایسے پرفتن زمانہ میں ( کہ چاروں طرف فسق و فجور کی ترقی تھی اور شرک اور دہریت کا زور تھا کہ نہ اعتقاد هی درست تھے اور نہ اعمال صالحہ اور نہ اخلاق ہی باقی رہے تھے ) آپ کا پیدا ہونا بجائے خود آپ کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کا ایک زبردست ثبوت ہے۔ کاش کوئی اس پر غور کرے ۔ عقل مند اور سلیم الفطرت انسان ایسے وقت پر آنے والے مصلح کی تکذیب کے لیے کبھی جلدی نہیں کر سکتا اور کم از کم اس کو اتنا تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یہ وقت پر آیا ہے۔ وباء طاعون اور ہیضہ کی شدت کے وقت اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ میں ان کے علاج کے لیے آیا ہوں تو کیا اس قدر تسلیم کرنا نہیں پڑے گا کہ یہ شخص ضرورت کے وقت پر آیا ہے؟ بے شک ماننا پڑے گا ۔ اسی طرح پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے لیے پہلی دلیل یہی ہے کہ آپ جس وقت تشریف لائے وہ وقت چاہتا تھا کہ مردے از غیب بیرون آید و کاری بکند ۔ اسی کی طرف قرآن کریم نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے بِالْحَقِّ اَنْزَلْتُهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ( بنی اسراءیل : ١٠٦) پس یا درکھو کہ ما مور من اللہ کی شناخت کی پہلی دلیل یہی ہوتی ہے کہ اس وقت اور موقع پر نگاہ کی جاوے کہ کیا اس وقت کسی مرد آسمانی کے آنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ ایک شخص اگر نہروں کی موجودگی اور متعدد کنوؤں کے ہوتے ہوئے پھر ان میں ہی کنواں لگاتا