ملفوظات (جلد 2) — Page 486
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ جلد دوم وو پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتاب ” میزان الحق“ میں یہ سوال کیا ہے کہ کیا سبب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا اور خدا تعالیٰ نے ان کو نہ روکا ؟ اس سوال کا پھر آپ جواب دیتا ہے کہ اُس وقت چونکہ عیسائی بگڑ گئے تھے اُن کے اخلاق اور اعمال بہت خراب تھے۔ انہوں نے سچی راست بازی کا طریق چھوڑ دیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کی تنبیہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور اس لیے آپ کو نہ روکا۔ اس سے یہ نادان عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا تو اعتراف نہیں کرتا بلکہ معترض کی صورت میں اس کو پیش کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا اس وقت کے حسب حال کسی مصلح کی ضرورت تھی یا یہ کہ ایک کا جو ایک ہاتھ کاٹا ہوا ہے تو دوسرا بھی کاٹا جاوے جو بیمار ہے پتھر مار کر ماردیا جاوے ۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کے رحم کے مناسب حال ہے؟ اصل بات یہ کہ اس وقت جیسا کہ عیسائی تسلیم کرتے ہیں وہ تاریکی کا زمانہ تھا اور دیانند نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے اور تاریخ بھی شہادت دیتی ہے کہ ہندوستان میں بت پرستی ہو رہی تھی۔ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ کل معمورہ عالم میں ایک خطر ناک تاریکی چھائی ہوئی تھی جس کا اعتراف ہر قوم اور ملت کے مؤرخوں اور محققوں نے کیا ہے۔ اب ایسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود بے ضرورت نہ تھا بلکہ وہ کل دنیا کے لیے ایک رحمت کا نشان تھا۔ چنانچہ فرمایا ہے وَمَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) یعنی اے نبی کریم ہم نے تمہیں تمام عالم پر رحمت کے لیے بھیجا ہے۔ آپ کو تو کچھ معلوم نہ تھا کہ اس وقت آریہ ورت کی کیا حالت ہے اور کس خطرناک بت پرستی تھاکہ آرمیدورت ہے کے تاریک غار میں گرا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی شرم گاہ تک کی پرستش بھی ان وید کے ماننے والوں میں مروج تھی اور نہ آپ کو معلوم تھا کہ بلا د شام کے عیسائیوں کا کیا حال ہے وہ کسی قسم کی انسان پرستی میں مصروف ہو کر اخلاق اور اعمال صالحہ کی قیود سے نکل کر بالکل تاریک زندگی بسر کر رہے تھے اور ر نہ آپ کو اس بات کا علم تھا کہ ایران اور مصر میں کیا ہو رہا ہے؟ غرض آپ تو ایک جنگل میں پیدا ہوئے تھے۔ نہ اس وقت کوئی تاریخ مدون ہوئی تھی جو آپ نے پڑھی ہوتی۔ نہ کسی مدرسہ اور مکتب میں