ملفوظات (جلد 2) — Page 484
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ له جلد دوم یہ پسند فرمایا ہے کہ کچھ خفا بھی ہو ۔ دانش مند آدمی سعادت پاتا ہے ۔ بیوقوف اس سے محروم رہ جاتا ہے اور پھر کوئی ایمانی امر ایسا نہیں ہے جس میں حقیقت فلسفہ نہ ہو۔ اس خفا میں عظیم الشان فلسفہ ہے جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کہ اگر ایسا انکشاف ہوتا کہ کوئی چیز مخفی نہ رہ جاتی ۔ معاد کا حال اور خدا کی رضا کا پتہ معلوم ہو جاتا ہے تو نیکی نیکی نہ رہتی اور نہ اس کی کوئی قدر ہوتی ۔ مشہود محسوس چیزوں پر ایمان لانے سے کوئی ثواب نہیں مل سکتا ۔ مسجد پر یا درخت یا آفتاب پر ایمان لانے والا اور ان کے وجود کا اعتراف کرنے والا کسی جزا کا مستحق نہیں ہے لیکن جو مخفی کو معلوم کر کے ایمان لاتا ہے وہ بے شک قابل تعریف فعل کا کرنے والا ٹھہرتا ہے اور مدح اور تعریف کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ جب بالکل انکشاف ہو گیا پھر کیا ؟ اسی طرح پر اگر کوئی ۲۹ دن کے ہلال کو دیکھتا ہے تو بے شک اس کی نظر قابل تعریف ہو گی لیکن اگر کوئی چودہ دن کے بعد جبکہ بدر ہو گیا ہے اور عالم تاب روشنی نظر آتی ہے لوگوں کو کہے کہ آؤ میں تمہیں چاند دکھاؤں میں نے دیکھ لیا ہے تو وہ مسخرہ اور فضول گو ٹھہرایا جاوے گا ۔ غرض قابلیت فراست سے ظاہر ہوتی ہے۔ خدا نے کچھ چھپایا ہے اور کچھ ظاہر کیا ہے۔ اگر بالکل ظاہر کرتا تو ایمان کا ثواب جاتا رہتا اور اگر بالکل چھپاتا تو سارے مذاہب تاریکی میں دبے رہتے اور کوئی بات قابل اطمینان نہ ہو سکتی اور آج کوئی مذہب والا دوسرے کو نہ کہہ سکتا کہ تو غلطی پر ہے اور نہ مؤاخذہ کا اصول قائم رہ سکتا تھا کیونکہ یہ تکلیف مالا يطاق تھی مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لا يُكَلِّفُ الله نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( البقرة : ۲۸۷) پس خدا کا فضل ہے کہ ہلکا سا امتحان رکھا ہوا ہے جس میں بہت مشکلات نہیں باوجود یکہ وہ عالم ایسا ادق ہے کہ جو جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا ۔ پھر بھی خدا تعالیٰ نے انوار و برکات کا ایک سلسلہ رکھا ہے جس سے اس دنیا ہی میں پتہ لگ جاتا ہے اور وہ مخفی اُمور متحقق ہو جاتے ہیں ۔ ستر الہی آج کل کے فلاسفروں نے مردوں کے واپس آنے کی بہت تحقیقات کی ہے ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۲ء صفحه ۳ تا ۵