ملفوظات (جلد 2) — Page 483
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۳ جلد دوم گرفتار ہو جاتے ہیں۔ مامورین کی باتوں سے فائدہ اُٹھانے والے لوگ لیکن جو سن ظن سے کام لے کر صبر اور استقلال کے ساتھ اس کی باتوں کو متوجہ ہو کر سنتے ہیں وہ فائدہ اُٹھا لیتے ہیں ۔ آخر سچائی کی چمک خود ان کے دل کو روشن کر دیتی ہے۔ اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور اُن کے کانوں میں نئی سننے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ دل فکر کرتا ہے اور عمل کا رنگ پیدا کر دیتا ہے جس سے وہ سکھ پاتے ہیں۔ دنیا ہی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کو نیکی اور بھلائی کا موقع ملے اور وہ اُس کو کھو دے تو اس موقع کے ضائع کرنے سے اس کو ہم و غم ہوتا ہے اور ایک درد محسوس کرتا ہے ۔ اس طرح پر جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کا زمانہ پایا اور اس موقع کو کھو دیا وہ عذاب الہی میں گرفتار ہیں ۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اہل دنیا اس سے بے خبر ہیں اگر اہل دنیا کو مردوں کے حالات پر اطلاع ہو سکتی اور مُردے دنیا میں دوبارہ آکر اپنے حالات سنا سکتے تو سب کے سب فرشتوں کی سی زندگی بسر کرنے والے ہوتے اور دنیا میں گناہ پر موت طاری ہو جاتی لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا اور اس معاملہ کو پردہ اور خفا میں رکھا ہے تا کہ نیکی کا اجر اور ثواب ضائع نہ ہو جاوے۔ دیکھو! اگر امتحان سے پہلے سوالات کو شائع کر دیا جاوے تو ان کے جوابات میں لیاقت کیا معلوم ہو سکتی ہے؟ اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے جو مؤاخذہ کا طریق رکھا ہے اس کو افراط و تفریط سے بچا کر رکھا ہے۔ میں اخفا اگر اللہ تعالی سارے پر دے کھول دیتا اور کوئی امر مخفی اور پوشیدہ نہ ہوتا ایمانیات میں اخفا اور مردے آ کر کہہ دیتے کہ جنت و نار سب حق ہیں تو بتاؤ کہ آ کیا کوئی دہریہ اور بت پرست رہ سکتا ہے؟ مثلاً اگر یہاں ہی کے دو چار مردے آ کر حقیقت بتاویں اور اپنے پوتوں عزیزوں کو بتائیں تو کوئی رو گردان رہ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا۔ اب اگر کوئی آفتاب پر ایمان لاوے کہ یہ ہے اور روشنی دیتا ہے تو بتاؤ اس ایمان کا کوئی ثواب اسے مل سکتا ہے؟ کچھ بھی نہیں اسی طرح پر اللہ تعالیٰ نے ایمان کی قدر و قیمت اور نیکی کی جزا کے لیے