ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 466

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٤٦٦ جلد دوم کرتے ہیں۔ اب اگر صراحتا بلا تاویل انجیل میں مسیح کی الوہیت یا تثلیث کا بیان ہوتا تو کیا وجہ ہے کہ یونی ٹیرین فرقہ اس سے انکار کرتا ہے حالانکہ وہ انجیل کو اسی طرح مانتا ہے جس طرح دوسرے عیسائی ۔ جو پیشگوئیاں توریت کی پیش کی جاتی ہیں ان کے متعلق بھی ان لوگوں نے کلام کی ہے اور ایک یونی ٹیرین کی بعض تحریریں بھی میرے پاس اب تک موجود ہیں ۔ کیا اُنہوں نے اُن کو نہیں پڑھا اور نہیں سمجھا۔ قرآن شریف نے کیا خوب کہا ہے كُل حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (الروم : ٣٣)۔ میری مراد اس کے بیان کرنے سے صرف یہ ہے کہ تاویلات رکیکہ اور ظنی باتیں تو ایک باطل پرست بھی پیش کرتا ہے۔ مگر کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس پر پورا غور کریں؟ یونی ٹیرین لوگوں نے تثلیث پرستوں کے بیانات ان پیشگوئیوں کے متعلق سن کر کہا ہے کہ یہ قابل شرم باتیں ہیں جو پیش کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اگر تثلیث اور الوہیت مسیح کا ثبوت اسی قسم کا ہو سکتا ہے تو پھر بائبل سے کیا ثابت نہیں ہو سکتا ؟ لیکن ایک محقق کے لیے غور طلب بات یہ ہے کہ وہ ان کو پڑھ کر ایک امر تنقیح طلب قرار دے اور پھر اندرونی اور بیرونی نگاہ سے اس کو سوچے ۔ اب ان پیشگوئیوں کے متعلق جہاں تک میں کہہ سکتا ہوں یہ امر قابل غور ہیں ۔ اول ۔ کیا ان پیشگوئیوں کی بابت یہودیوں نے بھی ( جن کی کتابوں میں یہ درج ہیں ) یہی سمجھا ہوا تھا کہ ان سے تثلیث پائی جاتی ہے یا مسیح کا خدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ دوم - کیا مسیح نے خود بھی تسلیم کیا کہ یہ پیشگوئیاں میرے ہی لیے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اُن کا مصداق قرار دے کر مصداق ہونے کا عملی ثبوت کیا دیا؟ اب اگر چہ یہ ایک لمبی بحث بھی ہو سکتی ہے کہ کیا در حقیقت وہ پیشگوئیاں اصل کتاب میں اسی طرح درج ہیں یا نہیں مگر اس کی کچھ چنداں ضرورت نہ سمجھ کر ان دو تنقیح طلب امور پر نظر کرتے ہیں ۔ یہودیوں نے جو اصل وارث کتاب تو ریت ہیں اور جن کی بابت خود مسیح نے کہا ہے کہ وہ موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں کبھی بھی ان پیشگوئیوں کے یہ معنے نہیں کئے جو آپ یا دوسرے عیسائی کرتے ہیں