ملفوظات (جلد 2) — Page 465
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۵ اس پر مسٹر عبدالحق نے کہا کہ میں کل لکھ کر سنا دوں گا اور حضرت اقدس تشریف لے گئے ۔ ) ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۱ء چوتھی ملاقات جلد دوم آج احباب بہت کثرت سے آگئے تھے اور لاہور، وزیر آباد، راولپنڈی ، علاقہ کا بل ، جموں، گوجرانوالہ، امرتسر، کپورتھلہ ، گڈھ شنکر، لودھانہ، الہ آباد، سانبھر وغیرہ مقامات سے اکثر دوست آچکے تھے۔ حضرت اقدس حسب معمول سیر کو نکلے اور خدام کے زمرہ میں یہ نور خدا چلا ۔ احباب کا پروانوں کی طرح ایک دوسرے پر گرنا بھی بجائے خود دیکھنے والے کے لیے ایک عجیب نظارہ تھا ۔ الغرض مسٹر عبدالحق صاحب نے کل کے حضرت اقدس کے ارشاد کے موافق ایک مختصر سی تحریر پڑھ کر سنائی جو ان کے اپنے خیال میں تثلیث اور مسیح کی الوہیت کے دلائل پر مشتمل تھی۔ اس کو سن لینے کے بعد حضرت اقدس نے اپنا سلسلہ کلام یوں شروع فرمایا۔ شخص تثلیث والو بیت مسیح اصل بات یہ ہے کہ یہ بات ہر خ کو معلوم ہے اوراس سے کوئی دانش مند انکار نہیں کر سکتا کہ ہر آدمی جس غلطی میں مبتلا ہے یا جس غلط خیال میں گرفتار ہے وہ اس کے لیے اپنے پاس کوئی نہ کوئی وجوہات رکیکہ ضرور رکھتا ہے مگر دانش مند اور سلیم الفطرت انسان کا خاصہ ہے کہ وہ ان کی تو زین کر کے اصل نتیجہ کو جو سچائی ہوتی ہے تلاش کرنے لگتا ہے۔ اب اسی اصول کے موافق عیسائیوں نے بھی اپنے اس عقیدہ تثلیث کے متعلق کچھ باتیں بنا رکھی ہیں جن کو وہ دلائل قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں ۔ مگر ابھی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ دلائل کیا وقعت رکھ سکتے ہیں اور ان میں کہاں تک قوت اور زور ہے ۔ جس حال میں عیسائیوں میں ایسے فرقے بھی موجود ہیں جو مسیح کی الوہیت اور خدائی کے قائل نہیں اور نہ وہ تثلیث ہی کو مانتے ہیں جیسے مثلاً یونی ٹیرین۔ تو کیا وہ اپنے دلائل اور وجوہات انجیل سے بیان نہیں کرتے؟ وہ بھی تو انجیل ہی پیش الحکم جلد ۶ نمبر ۶ مورخه ۱۴ رفروری ۱۹۰۲ء صفحه ۳