ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 435

ملفوظات حضرت مسیح موعود لدله جلد دوم بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہیے اور حقیقہ موذی نہیں ہونا چاہیے۔ شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہنچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملا یا جاوے۔ ایک جگہ وہ فصل نہیں چاہتا اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے اس لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیار نہیں کرتی اس میں اور اس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنی درجہ کا ہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور ان سے محبت کرنی چاہیے کیونکہ خدا کی یہ شان ہے۔ ع بدال را به نیکال ببخشد کریم پس جو تم میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہیے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس بد بخت نہیں ہوتا۔ یہ خلاصہ ہے الہی تعلیم کا جو تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ میں پیش کی گئی ہے۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۰۱ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک عیسائی حق جو کی گفتگو منشی عبد الحق صاحب قصوری طالب علم بی ۔ اے کلاس لاہور نے جو عرصہ تین سال سے عیسائی تھے الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۶،۵