ملفوظات (جلد 2) — Page 434
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳۴ جلد دوم اوپر کی بابت کب یقین ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پر بنی نوع انسان اور اپنے اخوان کے ساتھ جو یگانگت اور محبت کا رنگ ہو اور وہ اس اعتدال پر ہو جو خدا نے قائم کیا ہے تو اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی محبت ہو۔ پس بنی نوع کے حقوق کی نگہداشت اور اخوان کے ساتھ تعلقات بشارت دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت کا رنگ بھی ضرور ہے۔ دیکھو! دنیا چند روزہ ہے اور آگے پیچھے سب مرنے والے ہیں ۔ قبریں منہ کھولے ہوئے آوازیں مار رہی ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی نوبت پر جا داخل ہوتا ہے۔ عمرایسی بے اعتبار اور زندگی ایسی نا پائیدار ہے کہ چھ ماہ اور تین ماہ تک زندہ رہنے کی امید کیسی ۔ اتنی بھی امید اور یقین نہیں کہ ایک قدم کے بعد دوسرے قدم اٹھانے تک زندہ رہیں گے یا نہیں ۔ پھر جب یہ حال ہے کہ موت کی گھڑی کا علم نہیں اور یہ پکی بات ہے کہ وہ یقینی ہے ملنے والی نہیں تو دانش مند انسان کا فرض ہے کہ ہر وقت اس کے لیے تیار رہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُّسْلِمُونَ (البقرة: ۱۳۳) ہر وقت جب تک انسان خدا تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف نہ رکھے اور ان ہر دو حقوق کی پوری تکمیل نہ کرے بات نہیں بنتی جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ حقوق بھی دو قسم کے ہیں ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق عباد۔ اور حقوق عباد بھی دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دینی بھائی ہو گئے ہیں خواہ وہ بھائی ہے یا باپ ہے یا بیٹا مگر ان سب میں ایک دینی اخوت ہے اور ایک عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اسی کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بہشت نہ بھی ہوں تب بھی اس کی عبادت کی جاوے اور اس نہ ذاتی محبت میں جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہیے کوئی فرق نہ آوے۔ اس لئے ان حقوق میں دوزخ اور بہشت کا سوال نہیں ہونا چاہیے۔ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا ہے۔ اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لكم (المؤمن : ۶۱ ) میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا