ملفوظات (جلد 2) — Page 430
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳۰ جلد دوم معکوس نماز وغیرہ ایجاد کی ہوئی ہے کیا قرآن شریف یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں بھی اس کا کی کہیں پتا لگتا ہے اور ایسا ہی یا شَيْخُ عَبْدَ الْقَادِرِ جَيْلًا نِي شَيْئًا لِلهِ کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن شریف سے ملتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وجود بھی نہ تھا۔ پھر یہ کس نے بتایا تھا۔ شرم کرو ۔ کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے؟ اب خود ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کو مان کر اور ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نے خاتم النبیین کی مہر کو توڑا ہے۔ اصل اور سچی بات یہی ہے کہ اگر تم اپنی مساجد میں بدعات کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبوت پر ایمان لا کر آپ کے طرز عمل اور نقش قدم کو اپنا امام بنا کر چلتے تو پھر میرے آنے ہی کی کیا ضرورت ہوتی ۔ تمہاری ان بدعتوں اور نئی نبوتوں نے ہی خدا تعالیٰ کی غیرت کو تحریک دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے جوان جھوٹی نبوتوں کے بہت کو توڑ کر نیست و نابود کرے۔ پس اسی کام کے لیے خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ غوث علی پانی پتی کے ہاں شاکت مت کا ایک منتر رکھا ہوا ہے جس کا وظیفہ کیا جاتا ہے اور ان گدی نشینوں کو سجدہ کرنا یا اُن کے مکانات کا طواف کرنا یہ تو بالکل معمولی اور عام باتیں ہیں ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اس لیے قائم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور عزت کو دوبارہ قائم کریں۔ ایک شخص جو کسی کا عاشق کہلاتا ہے اگر اس جیسے ہزاروں اور بھی ہوں تو اس کے عشق و محبت کی خصوصیت کیا رہے۔ تو پھر اگر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں فنا کرتے ہیں۔ ہیں جیسا کہ یہ دعویٰ کرتے ہیں تو یہ کیا بات ہے کہ ہزاروں قبروں اور مزاروں کی پرستش کر۔ مدینہ طیبہ تو جاتے نہیں مگر اجمیر اور دوسری خانقاہوں پر ننگے سر اور ننگے پاؤں جاتے ہیں۔ پاک پیٹن کی کھڑکی میں سے گزر جانا ہی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں ۔ کسی نے کوئی جھنڈا کھڑا کر رکھا ہے۔ کسی نے کوئی اور صورت اختیار کر رکھی ہے۔ ان لوگوں کے عرسوں اور میلوں کو دیکھ کر ایک سچے مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے کہ یہ انہوں نے کیا بنا رکھا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کو اسلام کی غیرت نہ ہوتی