ملفوظات (جلد 2) — Page 429
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۹ جلد دوم ایک طرف تو یہ ظالم طبع لوگ مجھ پر افترا کرتے ہیں کہ گویا میں ایسی مستقل نبوت کا دعوی کرتا ہوں جو صاحب شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا الگ نبوت ہے مگر دوسری طرف یہ اپنے بہ اعمال کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے کہ جھوٹی نبوت کا دعوی تو خود کر رہے ہیں جب کہ خلاف رسول اور خلاف قرآن ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں ۔ اب اگر کسی کے دل میں انصاف اور خدا کا خوف ہے تو کوئی مجھے بتائے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم اور عمل پر کچھ اضافہ یا کم کرتے ہیں؟ جب کہ اسی قرآن شریف کے بموجب ہم تعلیم دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اپنا امام اور حکم مانتے ہیں۔ کیا اڑہ کا ذکر میں نے بتایا ہے اور پاس انفاس اور نفی و اثبات کے ذکر اور کیا کیا، اور کیا کیا میں سکھاتا ہوں پھر جھوٹی اور مستقل نبوت کا دعوی تو یہ لوگ خود کرتے ہیں اور الزام مجھے دیتے ہیں۔ درکھو کہ کوئی مختم نبوت کی حقیقت یا یا کوک کو ان کا ملا نہیں ہوسکا اور حا صل للہ علیہ سلم آنحضرت کا متبع نہیں بن سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کر لے۔ جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ کو خاتم النبین نہیں مانتا کچھ نہیں ۔ سعدی نے کیا اچھا کہا ہے۔ و بزہد و ورع کوش و صدق و صفا لیکن میفزائے بر مصطفى ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے یہی ہے کہ صرف صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جائے جو ابد الآباد کے لئے خدا نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جائے جو ان لوگوں نے اپنی بدعتوں کے ذریعہ قائم کی ہیں ان ساری گدیوں کو دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہم ایمان لائے ہیں یا وہ ؟ یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشا قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبیین مانو اور کرتوتیں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنالو۔ بغدادی نماز